اسلام آباد: قومی اسمبلی نے معاشرتی بربریت کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے "تیزاب اور آگ سے جلانے کے جرم کا انسداد بل 2024" کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ اس بل کا مقصد ایسے سنگین جرائم کی روک تھام، متاثرین کو فوری انصاف کی فراہمی، مفت علاج اور مؤثر بحالی کو یقینی بنانا ہے۔
بل کی اہم شقیں:
سزائیں: تیزاب یا آگ سے حملہ کرنے والوں کو سزائے موت یا کم از کم 7 سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔
فوری انصاف: تمام مقدمات کو 60 دن کے اندر نمٹانے کی قانونی پابندی ہوگی۔
متاثرین کی بحالی:
مفت طبی علاج اور نفسیاتی بحالی لازمی قرار
قانونی معاونت اور مالی امداد کی فراہمی
بچوں اور متاثرہ خاندان کے کفیل کو مالی امداد
ادارہ جاتی اقدامات:
"ایسڈ و برن کرائم مانیٹرنگ بورڈ" کا قیام، جس میں خواتین کی 33 فیصد نمائندگی لازمی ہوگی
سرکاری اسپتالوں میں متاثرین کے لیے مفت علاج اور بحالی مراکز کا قیام
تحفظ اور نگرانی:
متاثرین اور گواہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات جیسے شناخت چھپانا، حفاظتی رہائش
ناقص تفتیش پر پولیس افسر کو 2 سال تک قید یا جرمانہ
بل کو انسانی حقوق کے تحفظ کی سمت ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف متاثرین کو انصاف ملے گا بلکہ ایسے جرائم کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔