پاکستان کے موٹرویز اور سکھر، حیدرآباد موٹروے

اسحاق سومرو اسحاق سومرو

پاکستان کے موٹرویز اور سکھر، حیدرآباد موٹروے

 


پاکستان میں موٹر ویز کو جدید انفراسٹرکچر کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے جو کہ محفوظ، تیز رفتار سفر فراہم کرتے ہوئے تجارت، صنعت اور علاقائی رابطوں میں معاونت کرتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ مختلف صوبوں کو جوڑنے اور بڑے شہروں کے درمیان سفر کے اوقات کو کم کرتے ہوئے ترقی اور خوشحالی کی علامت بن گئے ہیں۔

پاکستان میں موٹر ویز کا بنیادی تصور 1990 کی دہائی کے اوائل میں متعارف کرایا گیا، جب حکومت نے بڑھتی ہوئی آبادی، تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے جدید سڑکوں کی ضرورت کو محسوس کیا۔ خیال یہ تھا کہ یورپی موٹر ویز کی طرح تیز رفتار، کنٹرول تک رسائی والی سڑکیں بنائیں، جو پرانی گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ پر دباؤ کو کم کرے گی اور ملک کے اندر بہتر رابطہ فراہم کرے گی۔

ابتدائی طور پر کراچی اور گوادر پورٹ کو ملانے کے لیے 10 موٹر ویز کا تصور 1991 میں پیش کیا گیا۔

ایم – 2، پہلی موٹر وے اسلام آباد-لاہور کی تعمیر 1992 میں وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں شروع ہوئی تھی۔ یہ تاریخی منصوبہ جنوبی کوریا کی کمپنی ڈائیوو کارپوریشن کی مدد سے 

مکمل کیا گیا۔  جو 367 کلومیٹر طویل ہے، جس کا افتتاح 1997 میں ہوا۔

 اور یہ جنوبی ایشیا کی پہلی موٹر وے بن گئی۔ اس کی کامیابی نے ملک بھر میں موٹرویز کے نیٹ ورک کی تشکیل کی بنیاد رکھی۔پاکستان کے نیٹ ورک میں ایم کے نام سے 16 موٹرویز ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، درج ذیل موٹر ویز مکمل ہو چکی ہیں اور استعمال میں ہیں۔

. M-1 (پشاور-اسلام آباد)

M-2 (اسلام آباد-لاہور)

M-3 (لاہور-عبدالحکیم)

M-4 (پنڈی بھٹیاں-ملتان)

M-5 (ملتان-سکھر)

M-9 (حیدرآباد-کراچی)

M-10 (کراچی ناردرن بائی پاس)

M-11 (لاہور-سیالکوٹ)

M-14 (اسلام آباد – ڈی آئی خان)

M-15 (حسن ابدال-تھاکوٹ، ہزارہ موٹروے)

M-16 (صوابی-چکدرہ، سوات موٹروے)

کل 11 آپریشنل موٹرویز ہیں۔

مندرجہ ذیل موٹرویز اس وقت زیر تعمیر ہیں۔

(سکھر_حیدرآباد) – سنگ بنیاد مکمل، M-6 ابتدائی مراحل میں

(رتوڈیرو_گوادر) - جزوی طور پر آپریشنل؛ زیر تعمیر M-8 

(سیالکوٹ_کاریاں) M-12

(سیالکوٹ_کاریاں)M-12

(کاریاں_راولپنڈی) M-13

یعنی 4 موٹر ویز زیر تعمیر ہیں۔

وہ موٹرویز جو منظور ہو چکی ہیں یا منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔

دادو-اور حب کے درمیان  - منصوبہ بندی کے مرحلے میں۔ M-7

(لاہور_ساہیوال_بہاولنگر)، M-17 

، M-18, M-19, M-20, M-21, M-22, M-23 

اوپر والے سبھی منظور شدہ ہیں یا منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔ دیگر موٹر ویز کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز جاری کر دی گئی ہیں لیکن ابھی تک ان پر تعمیراتی کام شروع نہیں ہوا۔

ایم -6 (سکھر-حیدرآباد) موٹر وے کے لیے زمین کے حصول کا عمل اپنے آغاز سے ہی تاخیر اور تنازعات کا شکار رہا ہے۔ اگرچہ سروے اور نوٹیفکیشن 2019-20 میں شروع ہوئیں اور 2021 تک جزوی پیشرفت رپورٹ پیش کی گئی، 2022 کے آخر میں ضلع مٹیاری میں ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا، جہاں اربوں روپے کے معاوضے کے فنڈز حکام نے غبن کیے تھے۔ بدعنوانی کے اس کیس نے گرفتاریوں، عدالتی کارروائیوں اور ادائیگیوں کی معطلی کے ساتھ پورے عمل کو شدید دھچکا پہنچایا۔ سندھ حکومت نے 2024 میں یہ عمل دوبارہ شروع کیا۔

اور چیف منسٹر نے 2025 کے وسط تک حصول اراضی کو مکمل کرنے کا ضلع وار ہدف مقرر کیا۔ قومی اسمبلی اور متعلقہ کمیٹیوں کو یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ اراضی کی منتقلی کے تعمیراتی کام کے آغاز سے قبل زمین کے حصول کو یقینی بنایا جائے گا۔

جسے حیدرآباد سکھر موٹروے بھی کہا جاتا ہے، وھ  پاکستان کا ایک بڑا اور تاریخی ترقیاتی منصوبہ ہے۔ موٹر وے 306 کلومیٹر طویل، چھ لین، مکمل طور پر کنٹرول شدہ اور باڑ والی شاہراہ ہے جو کراچی کو تیز رفتار اور بلاتعطل راستے کے ذریعے شمالی پاکستان سے جوڑے گی۔ یہ منصوبہ نہ صرف سفر کے وقت کو کم کرے گا اور ٹرانسپورٹ کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا،

لیکن اس سے سندھ اور ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کی نئی راہیں بھی کھلیں گی۔

 اس کا تصور 2000 کی دہائی میں کراچی-لاہور کوریڈور کے ایک حصے کے طور پر سامنے آیا۔ لیکن اس منصوبے کو مالی، انتظامی اور تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے بار بار تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

اس سکھر-حیدرآباد موٹروے کا پہلا حدف ، 2020 مین  165.679 ارب مقرر کیا گیا۔ 

جسے 2021 میں نظرثانی کرتے ہوئے 191.471 بلین روپے کر دیا گیا تھا۔ 

2022  میں یہ رقم دوسری بار بڑھا کر 308.194 ارب روپے کر دی گئی۔ تیسری بار اسے 2025 میں بڑھا کر 394.968 ارب روپے کیا گیا اور بعد میں اسے کم کر کے 363.7 ارب روپے کر دیا گیا۔

حکومت نے اس منصوبے کو سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنانے کے لیے اسے پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ M-6 روٹ لونی کوٹ، حیدرآباد M-9 کراچی-حیدرآباد موٹروے سے منسلک سے شروع ہوگا اور سکھر (روہڑی) پر ختم ہوگا، جہاں یہ M-5 ملتان-سکھر موٹروے سے جڑے گا۔ راستے میں، موٹر وے درج ذیل شہروں اور علاقوں سے گزرے گی۔

جامشورو، ٹنڈو آدم، ہالا، شہداد پور، نواب شاہ، مورو، نوشہرہ فیروز، محراب پور، خیرپور، سکھر

یہ راستہ سندھ کے بڑے شہروں اور زرعی علاقوں کو آپس میں جوڑے گا جس سے علاقائی معیشت میں نئی جان آئے گی۔.

ایم -6 موٹروی ایک جدید بین الاقوامی معیار کی موٹروے ہوگی۔ اس میں درج ذیل سہولیات شامل ہیں۔ اس کا بنیادی ڈھانچہ، دریائے سندھ پر ایک پل، نہروں پر 76 پل، 19 اوور پاس، 6 فلائی اوور، 154 سب ویز، اور 136 کارگو کراسنگ۔

سروس انفراسٹرکچر: 30 ٹول پلازے، 20 اسٹیشنز، 12 ریسٹ ایریاز، 10 سروس ایریاز اور موٹروے پولیس کی عمارتیں بھی تعمیر کی جائیں گی۔

ٹیکنالوجی اور حفاظت، انٹیلجنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم (آئی ٹی ایس) ایمرجنسی سینٹر، نکاسی آب اور سکھر-حیدرآباد موٹروے کی کل لمبائی: 306.28 کلومیٹر مین روڈ، 60 کلومیٹر سروس روڈ شامل ہو گی۔

ایم-6  نہ صرف ایک سڑک ہے بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک اقتصادی شریان بھی ہے۔

یہ موٹر وے پشاور-کراچی موٹر وے کا آخری منسلک حصہ ہے، جو کراچی سے خیبر تک بلا تعطل سفر کر سکے گا۔

کو مظبوط کرے گی۔ (CPEC) ایم ـ6 موٹر وی  چائنا پاکستان اقتصادی کوریڈور (سی پیک  کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں جوڑے گا۔ کو وسطی ایشیا اور افغانستان سے 

حیدرآباد سے سکھر کا سفر 7 گھنٹے سے کم ہو کر 4 گھنٹے سے کم ہو جائے گا، جس سے ایندھن اور گاڑیوں کے اخراجات میں 

آئے گی۔ علاقائی مین ترقی ہو گی۔

سندھ کے دیہی علاقوں میں روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ نیشنل ہائی وے 

پر ٹریفک کا دباؤ کم ہو جائے گا اور حادثات میں کمی آئے گی۔ اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مالیاتی انتظام رہی ہین ۔ موجودہ منصوبہ ایک مخلوط مالیاتی ماڈل ہے۔ جو 

اب اسلامی ترقیاتی بنک کے تعاون اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ(پی پی پی) 

کی مدد سے تعمیر کے مرحلے میں جا رہا ہے۔ کل لاگت 363.7 ارب روپے ہے جس میں سے حکومت صرف 4.3 ارب روپے فراہم کر رہی ہے، باقی نجی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی قرضوں سے آئے گا۔ اس پروجیکٹ کی اصل ٹائم لائن 2020-2024 ، 3.5 سال تھی ۔ موجودہ ٹائم لائن 2026 سے 2028 تک تکمیل کے لیے ہے۔ لیکن اس پروجیکٹ کی تکمیل میں تین سے آٹھ سال لگ سکتے ہیں۔

ایم ـ6 حیدرآباد سکھر موٹروے پاکستان کی معیشت، ٹرانسپورٹ اور رابطے کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

اگرچہ یہ منصوبہ مالی مشکلات اور انتظامی تاخیر کی وجہ سے بار بار تعطل کا شکار رہا لیکن اس کی تکمیل سے نہ صرف سندھ کی ترقی میں تیزی آئے گی بلکہ پاکستان کا قومی اور علاقائی تجارتی راہداری کا خواب بھی پورا ہو گا۔ اس موٹروے سے حادثات میں کمی آئے گی، وقت اور ایندھن کی بچت ہوگی اور ہزاروں لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ منصوبہ مکمل ہو نے سے یہ پاکستان کے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں ایک بہترین مثال قائم کرے گا اگر یہ بغیر کسی تاخیر کے مکمل ہو جاتا ھے۔