جیالے رہنما خورشید شاہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ۔


جیالے رہنما خورشید شاہ کی درخواست ضمانت  پر فیصلہ محفوظ۔

آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں جیالے رہنما خورشید شاہ کی درخواست ضمانت  پر فیصلہ محفوظ۔جمعہ تک فریقین کو  تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم۔ ڈائریکٹر نیب سکھر سےدریافت کیا ،، آپ دستاویزات ساتھ لائیں ہیں۔ کیا وہاں سے صرف انڈے دینے آئے ہیں۔


سندھ ہائی کورٹ میں دوران سماعت خورشید شاہ کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل  کے خلاف ریفرنس طویل عرصہ چلنے کا خدشہ ہے۔ عدالت نے نیب کے وکیل سے کہا کہ آپ دو سال  میں  فائنل ریفرنس داخل  نہ کر سکے۔ سپریم کورٹ میں دو ہفتے کی مہلت لی اور  مہینے گزر گئے۔ڈائریکٹر نیب سکھر سے کہا کہ بتائیں دو سال میں کیا کیا۔ ڈائریکٹر نیب نے استدعا کی کہ کچھ مہلت دی جائے، دستاویزات پیش کر دیں گے۔ عدالت نے کہا سکھر سے آئے ہیں، کوئی دستاویزات لائے ہیں۔ جسٹس امجد سہتو نے  ریمارکس دیئے کہ آپ کیا وہاں سے صرف انڈے دینے آئے ہیں۔ گاڑی میں کچھ فائلیں ہی تو رکھنا تھیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ  ملزمان تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں۔ ٹرائل کورٹ کو ریفرنس کی سماعت تیز کرنے سے متعلق حکم دیا جا سکتا ہے۔ملزمان قومی ادارہ برائے امراض قلب  میں  داخل ہوگئے۔ وہاں  نیب کو جانے نہیں دیا جارہا۔ جسٹس امجد سہتو نے کہا کیا آپ نے ملزمان کو اسپتال  سے جیل بھیجنے کی استدعا کی۔ جب دوسرے جیل میں  ہیں،،،تو یہ اسپتال میں کیوں پڑے ہیں۔