انڈس ڈیلٹا: ہجامڑو ایک زندہ اور حیرت انگیز خطہ

فوزیہ جمیل فوزیہ جمیل

انڈس ڈیلٹا: ہجامڑو ایک زندہ  اور حیرت  انگیز   خطہ


پاکستان کے جنوب میں، جہاں سندھ کی قدیم سرزمین سمندر سے بغلگیر ہوتی ہے، وہاں ایک ایسا علاقہ ہے جو زمین، پانی اور ہوا کے درمیان ایک   حساس توازن پر قائم ہے  انڈس ڈیلٹا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دریائے سندھ اپنی طویل مسافت طے کرنے کے بعد سمندر میں اترتا ہے، اور ساتھ لاتا ہے زرخیز مٹی، نمکین پانی، مچھلیوں کے بیج، اور زندگی کی ایک پوری کائنات۔


انڈس ڈیلٹا کا پھیلاؤ تقریباً 600,000 ہیکٹر پر مشتمل ہے، جس میں کبھی گھنے تیمرکے جنگلات پائے جاتے تھے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں یہاں تقریباً 400,000 ہیکٹر  تیمر کے جنگلات موجود تھے، مگر وقت، صنعتی آلودگی، اور دریائی پانی کی کمی نے اس قدرتی خزانے کو گھٹا کر 100,000 ہیکٹر سے بھی کم کر دیا۔یہ زوال نہ صرف ماحول بلکہ مقامی معاشرت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا تھا۔


     تیمر یا مینگرووز کیا ہیں؟

لفظ ”مینگرووز“   یا "تیمر"ان درختوں اور جھاڑیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو سمندری کناروں، دریا کے دہانوں، اور نمکین پانی والے علاقوں میں اگتے ہیں۔یہ پودے Halophytic کہلاتے ہیں، یعنی نمک برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔دنیا بھر میں تقریباً 70 اقسام کی مینگرووز پائی جاتی ہیں، جو 123 ممالک میں موجود ہیں۔ان کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ زمین اور سمندر کے درمیان ایک قدرتی دیوار بناتے ہیں ۔طوفانوں، لہروں، اور زمین کے کٹاؤ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، ساتھ ہی آبی حیات کے لیے نرسری کا کردار ادا کرتے ہیں۔


تیمر کی اقسام اور حیاتیاتی خصوصیات

تیمر کی  ا نواع   میں     ،    چنہ((Avicennia marina  یہ قسم نمک برداشت کرنے والی سب سے مضبوط نوع ہے یہ  جڑوں سے سانس لیتی ہے اور پانی صاف کرتی ہے،اس کی سب سے خاص بات  کہ یہ   آبی حیات  اور مچھلیوں کی نرسری بناتی ہے۔ اس کے علاوہتمر ( (Rhizophora mucronata   جس کی جڑیں زمین کی سطح پر  نکلتی ہیں یہ طوفانی لہروں سے ساحل کو بچاتی ہیں اور ساحلی استحکام میں اہم کردار ادا  کرتی ہیں۔ تیسری قسم کچ Ceriops tagal))  کی اونچائی درمیانے درجے   کی ہوتی ہے یہ   کاربن جذب  کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں   اس کے علاوہ یہ مٹی کو مضبوطی سے پکڑے رکھنے میں  مدد  فراہم کرتی ہیں۔ تیمرکی ایک قسم بکرا((Aegiceras corniculatum نمکین پانی کے قریب پائی جاتی ہے، چھوٹے حشرات اور جھینگوں کی پناہ گاہ حیاتِ آبیہ کی افزائش میں مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔


 سندھ کے  تیمر  کی تاریخ

پاکستان کے ساحلی علاقے میں  تیمر بنیادی طور پر انڈس ڈیلٹا میں پائے جاتے ہیں، جو ٹھٹہ اور بدین کے اضلاع میں پھیلا ہوا ہے۔انیسویں صدی میں جب برطانوی دور میں کراچی بندرگاہ اور اس کے آس پاس تجارتی سرگرمیاں بڑھیں، تب پہلی بار   تیمر  کے معاشی استعمال (مثلاً لکڑی اور ایندھن) میں اضافہ ہوا۔پھر بیسویں صدی کے وسط میں کوٹری بیراج (1955) کی تعمیر کے بعد دریا کے نچلے حصے میں تازہ پانی کی آمد کم ہوئی، جس سے نمکینیت (salinity) بڑھنے لگی۔یہ تبدیلی ڈیلٹا کے ایکو سسٹم کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی۔ مینگرووز کی کئی اقسام   خصوصاً Rhizophora mucronata اور Ceriops tagal   تیزی سے ختم ہونے لگیں۔ایک وقت ایسا آیا کہ ڈیلٹا میں صرف Avicennia marina کی نوع ہی بڑی تعداد میں باقی رہ گئی، کیونکہ وہ سب سے زیادہ نمک برداشت کرنے والی نوع ہے۔

 زوال سے بحالی تک: ایک ماحولیاتی سفر

1980 کے بعد سے   شعبہ جنگلات سندھ اور   عالمی تنظیموں   مثلاً WWF، IUCN   نے ڈیلٹا میں مینگرووز کی بحالی کے منصوبے شروع کیے۔مگر ہجامڑو کا معاملہ منفرد ہے، کیونکہ یہاں مینگرووز کی افزائش قدرتی طور پر سیلابی پانی سے ہوئی۔ 2010 کے بعد آنے والے شدیدسیلابی پانی   کے نتیجے میں دریائے سندھ کا پانی اس علاقے میں پھیلا، جس نے نمکین زمین کو عارضی طور پر میٹھے پانی کی تہہ فراہم کی اسی ماحول میں مقامی بیج (propagules) خود بخود پھوٹنے لگے۔مقامی لوگوں نے ان پودوں کو محفوظ کیا، ان کی جڑوں کے اردگرد باڑ لگائی، اور دیکھ بھال شروع کی یوں یہاں "  مقامی افراد کی زیر انتظام  تیمر کی کاشت" یعنی" کمیونٹی –لیڈ مینگرووز فارمنگ" کا ماڈل وجود میں آیا۔ 


 تیمر کی حیاتیاتی طاقت

مینگرووز کسی بھی ماحولیاتی نظام کے لیے قدرتی فلٹر کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سمندری پانی میں موجود نقصان دہ مادوں کو جذب کرتے ہیں، آکسیجن خارج کرتے ہیں، اور مٹی میں موجود کاربن کو بند کرتے ہیں — جسے Blue Carbon کہا جاتا ہے۔تحقیقات کے مطابق، ایک ہیکٹر مینگرووز سالانہ 100 سے 120 میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر سکتے ہیں۔یہ شرح عام زمینی جنگلات سے چار گنا زیادہ ہے۔اسی لیے دنیا بھر میں مینگرووز کو Climate Change Mitigation کے بہترین قدرتی ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔


ہجامڑو: ڈیلٹا کا دل

ٹھٹہ ضلع کے ساحلی علاقے میں واقع ہجامڑو ایک چھوٹا سا مگر اہم گاؤں ہے۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر ماہی گیری، نمک کشی، اور محدود زراعت سے وابستہ ہیں۔ہجامڑو کی زمینیں اکثر سیلابی پانی (Flood Water) کے زیرِ اثر رہتی ہیں، جو سندھ کے شمالی حصوں میں بارشوں یا دریائی بہاؤ میں اضافے کے نتیجے میں نیچے اترتا ہے۔ یہی  سیلابی پانی  یہاںتیمرکے لیے زندگی کا ذریعہ بنتا ہے۔گزشتہ دہائی میں، ہجامڑو نے ایک نئی پہچان حاصل کی  "  تیمر   کی کاشت  " کی۔یہ وہ مقام بن گیا ہے  جہاں سیلابی پانی سے اگنے والے تیمر نے قدرتی بحالی کی ایک کامیاب کہانی لکھی۔


  ہجامڑو کےتیمر  : فطرت اور انسان کی شراکت

ہجامڑو میں مینگرووز فارمنگ کا سلسلہ صرف ماحولیاتی تحفظ نہیں بلکہ کمیونٹی کی بقا کا معاملہ بھی ہے۔یہاں کے  مقامی  افراد  خصوصاً ماہی گیر اور خواتین  اس منصوبے کے بنیادی ستون ہیں۔ ان کے مطابق، “جب ہم نے پہلی بار یہ پودے اگائے تو ہمیں لگا شاید یہ صرف جنگلی درخت ہیں، مگر جب مچھلیاں واپس آنے لگیں، تو ہم نے ان کی اصل طاقت کو جانا کہ یہ ایک قدرتی اشتراک ہے    ۔ 

 ہجامڑہ میں  مینگرووز کی اقسام اور ان کی موجودگی

سندھ کے ساحلی علاقوں میں چار نمایاں اقسام کی مینگرووز پائی جاتی ہیں:

   چنہ (Avicennia marina)یہ   سب سے زیادہ عام نوع ہے یہ نمکین پانی کو سب سے زیادہ برداشت کرتی ہیں جڑوں کے ذریعے آکسیجن جذب کرتی ہےتمرRhizophora mucronata  ، بڑی جڑیں جو زمین سے اوپر نکلتی ہیں طوفانی لہروں کو روکنے میں مددگار ہوتی ہیں ۔ کچ  (Ceriops tagal )  یہ درمیانے سائز کا درخت ہوتا ہے اور  کاربن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ Aegiceras corniculatum   بکرا 

  زیادہ تر دریا کے دہانوں پر پائی جاتی ہے مچھلیوں جھینگوں اور کیکڑوں کی پناہ گاہ ہوتی ہیں۔ ہجامڑو میں ان میں سے زیادہ تر Avicennia marina اور Rhizophora mucronata اگائے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ دونوں مقامی حالات کے مطابق ہیں۔

 ماحولیاتی توازن اور آبی حیات کی واپسی

پچھلے چند سالوں میں ہجامڑو کے مینگرووز کے آس پاس سمندری آبی حیات کی واپسی دیکھی گئی ہے۔مچھلیوں کی تعداد بڑھی، جھینگا مچھلی (prawn) کی افزائش میں اضافہ ہوا، اور پرندوں — خاص طور پر فلیمِنگوز  دوبارہ یہاں آنا شروع ہوئے۔یہ منظر نہ صرف ایک ایکو سسٹم کی بحالی کا ثبوت ہے بلکہ یہ انسانی کوشش اور فطرت کے درمیان تعاون کی زندہ مثال ہے۔

 زمینی رقبہ اور نرسری کا ماڈل

ہجامڑو میں مینگرووز کی نرسری تقریباً 1500 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔یہاں سالانہ لاکھوں پودے لگائے جا رہے ہیں, نرسریزمیں بیج جمع کرنے، اگانے، اور منتقل کرنے کا عمل مکمل طور پر مقامی لوگوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔  Sindh Forest Department کے مطابق، 2023 تک یہاں تقریباً 1.3 ملین نئے پودے اگائے جا چکے ہیں۔

 انسان، فطرت اور مستقبل کی امید

ہجامڑو کے باسی آج اپنے درختوں کو “محافظ” کہتے ہیں۔ وہاں کے  ماہی گیر  وں کا کہنا ہے کہ “پہلے جب سمندری لہریں ہماری زمین کاٹ کر لے جاتی تھیں تو ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اب جب مینگرووز ہیں، تو ہماری زمین محفوظ ہے، مچھلیاں واپس آئی ہیں، اور ہمارے بچوں کا پیٹ بھرتا ہے ۔

تیمر  کی حیاتیاتی اقسام اور ماحولیاتی کردار

ہجامڑو کے ساحل پر زندگی کے محافظ درخت

 یہ عام پودوں کی طرح نہیں — بلکہ یہ قدرت کے ایسے شاہکار ہیں جنہوں نے ارتقائی طور پر خود کو انتہائی سخت ماحولیاتی حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے۔

جہاں دوسرے پودے مرجھا جاتے ہیں، وہاں مینگرووز کی سبز جڑیں اور پتّے زندگی کی علامت بن جاتے ہیں۔ ان پودوں کی جڑیں، تنہ، پتے اور بیج   سب میں ماحولیاتی مطابقت (Adaptation) کے حیران کن مظاہر پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ان کے بیج (propagules) پانی میں گر کر پھوٹنے سے پہلے ہی جڑ پکڑ لیتے ہیں، تاکہ اگلی لہر انہیں بہا نہ لے جائے۔یہی ارتقائی خوبی انہیں انڈس ڈیلٹا جیسے غیر مستحکم ماحول میں قدرتی محافظ (Natural Protector) کا درجہ دیتی ہے۔

ماحولیاتی نظام میں مینگرووز کا کردار

مینگرووز صرف درخت نہیں — یہ ایک مکمل ایکو سسٹم ہیں۔

ان  کے سائے تلے جڑوں کے نیچے  مچھلیاں پیدا ہوتی ہیں، ان کے پتوں میں غذائی مواد بنتا ہے، ان کی جڑوں سے سمندری مٹی مضبوط ہوتی ہے، اور ان کی چھاؤں میں انسان کومعاشی اور حیاتیاتی  تحفظ ملتا ہے۔یہ آبی حیات کی پناہ گاہ ہیں ،جھینگا، کیکڑا، مڈ اسکیپر، اور کئی نایاب مچھلیاں مینگرووز کے درمیان افزائش پاتی ہیں۔ تیمر زمین کے کٹاؤ سے بچاؤ: جڑیں لہروں کی طاقت توڑ کر مٹی کو بہنے سے بچاتی ہیں۔کاربن اجذاب Blue Carbon Ecosystem کا اہم جز  ہے   ایک ہیکٹر مینگرووز زمین کے مقابلے میں چار گنا زیادہ کاربن محفوظ کرتے ہیں۔یہ ایک قدرتی فلٹر کا کام بھی کرتے ہیں  آلودہ پانی سے نائٹریٹس، فاسفیٹس اور بھاری دھاتیں جذب کر کے پانی صاف کرتے ہیں۔حیاتیاتی تنوع  کے باعث پنتے ہیں  پرندوں، کیڑوں، اور مائیکرو آرگینزمز کے لیے متنوع رہائش  ہوتے ہیں۔ 

ہجامڑو میں آبی حیات اور تیمر کا تعلق

ہجامڑو کے ساحل پر جب مینگرووز بڑھنے لگے تو ماہی گیروں نے سب سے پہلے مچھلیوں کی واپسی نوٹ کی یہ درخت دراصل سمندری جانداروں کی نرسری ہیں جھینگوں کے انڈے یہاں پھوٹتے ہیں، مچھلیوں کے بچے کم گہرے پانی میں پناہ لیتے ہیں، کیکڑے ان جڑوں میں اپنا گھر بناتے ہیں، سائنس دانوں کے مطابق، مینگرووز والے علاقوں میں ماہی گیری کی پیداوار 35–40 فیصد زیادہ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہجامڑو کے باسی اب مینگرووز کو ’’مچھلیوں کا مدرسہ‘‘ کہتے ہیں۔

 حشرات الارض اور پولی نیشن کا نظام

مینگرووز کے پھولوں پر شہد کی مکھیوں اور تتلیوں کی موجودگی ایک اہم اشارہ ہے کہ یہ نظام صحت مند ہےAvicennia marina کے پھول شہد کی مکھیوں کے لیے بہترین غذائی ذریعہ ہیں، جن سے مقامی سطح پر مینگروو ہنی کی پیداوار ممکن ہوئی ہے ،  ایک نئی ماحولیاتی معیشت کی شروعات، یہ حشرات صرف شہد ہی نہیں دیتے بلکہ پولی نیشن کے ذریعے پودوں کی قدرتی افزائش کو جاری رکھتے ہیں۔

پرندوں کی واپسی: اڑان میں زندگی

ہجامڑو کے علاقے میں گزشتہ چند سالوں میں پرندوں کی اقسام میں اضافہ دیکھا گیا ہے ان میں فلیمِنگو، ایگریٹ، ہیرن، سی گل، اور کنگ فشر نمایاں ہیں، یہ پرندے مینگرووز کے پتے، مٹی اور آبی حیات پر انحصار کرتے ہیں، WWF کی 2023 رپورٹ کے مطابق، ہجامڑو میں پرندوں کی تقریباً 75 اقسام ریکارڈ کی گئیں، جن میں سے 12 موسمی مہاجر پرندے ہیں، یہ اعداد و شمار ماحولیاتی بحالی کی کامیابی کا ثبوت ہیں۔

انڈس ڈیلٹا کے جنوبی کنارے پر واقع ہجامڑو گاؤں کبھی وہ خطہ تھا جہاں سمندر کا پانی اور زمین کی نمکیات زندگی کی علامت نہیں بلکہ زوال کی نشانی بن چکے تھے۔ کھیت بنجر، درخت خشک، اور مچھلیوں کے جال خالی رہنے لگے تھے۔ لیکن آج اسی علاقے میں سبز پودوں کی قطاریں، بچوں کی ہنسی، اور ناریل کے چھلکوں سے بھری ہوئی چھوٹی نرسریاں ایک نئی زندگی کی علامت بن چکی ہیں۔ یہ تبدیلی کسی باہر سے آنے والی طاقت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ہجامڑو کی اپنی کمیونٹی کی شرکت اور اجتماعی شعور کی پیداوار ہے۔

مقامی لوگوں کی شرکت: ایک خاموش انقلاب

جب تیمر فارمنگ کا منصوبہ ہجامڑو میں شروع ہوا تو ابتدا میں مقامی لوگوں میں شکوک و شبہات تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ بھی کسی وقتی مہم کی طرح آئے گا اور ختم ہو جائے گا۔ مگر جب پہلے چند نوجوانوں نے اپنی زمینوں کے کناروں پر Rhizophora mucronata (چھنوا) اور Avicennia marina (تیمر) کے بیج بوئے، اور کچھ ہی ماہ بعد ان کے ہرے بھرے پودے اگ آئے، تو یہ ایک امید کی کرن بن گئی، رفتہ رفتہ گاؤں کے مرد، خواتین، اور یہاں تک کہ اسکول کے طلبہ بھی اس عمل میں شامل ہو گئے۔ گاؤں کے بزرگ بتاتے ہیں کہ “پہلے ہم سمندر سے ڈرتے تھے، اب ہم اس سے جیتے ہیں۔” مینگرووز فارمنگ نے مقامی لوگوں کو قدرتی وسائل کے تحفظ کا عملی احساس دیا۔ اب وہ نہ صرف پودے لگاتے ہیں بلکہ ان کی دیکھ بھال، پانی کے بہاؤ کی نگرانی، اور نئی جگہوں پر نرسریوں کے قیام میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔

خواتین کی شرکت: معیشت میں نیا اعتماد

ہجامڑو کی خواتین پہلے زیادہ تر گھریلو کاموں اور مچھلی صاف کرنے کے کام تک محدود تھیں۔ مگر نرسریوں کے قیام کے بعد انہیں پہلی مرتبہ ایک ایسا ذریعہ ملا جس سے وہ گھر بیٹھے روزگار کما سکیں، خواتین کی ٹیمیں اب نرسریوں میں بیج چننے، پودے اگانے، پانی دینے اور ان کی منتقلی جیسے مراحل کی ذمہ دار ہیں۔ ان میں سے کئی خواتین کو ماحولیاتی تنظیموں نے تربیت بھی دی۔

مقامی تنظیموں اور NGOs کی شمولیت

ہجامڑو کی اس نرسری کی کامیابی میں کئی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔Delta Blue Carbon Project, IUCN, Sindh Forest Department, WWF نے مقامی کمیونٹی کے ساتھ شراکت میں تربیتی پروگرام، پودوں کی تقسیم، اور ماحولیاتی آگاہی مہمات چلائیں ان تنظیموں نے کمیونٹی کو یہ سمجھایا کہ مینگرووز صرف درخت نہیں بلکہ معاشی وسائل ہیں۔ ان کی مدد سے کاربن کریڈٹ منصوبے شروع ہوئے، جن سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ مقامی گاؤں کے لیے مختص کیا گیا۔

نرسری کا کمیونٹی ماڈل: اجتماعی محنت کی مثال

ہجامڑو میں قائم نرسری صرف پودے اگانے کی جگہ نہیں بلکہ ایک کمیونٹی سینٹر بن چکی ہے  یہاں روز صبح درجنوں افراد آتے ہیں   کچھ پانی دیتے ہیں، کچھ بیج لگاتے ہیں، کچھ ماپ تول کرتے ہیں، نرسری کے نظام میں ہر شخص کی ایک مخصوص ذمہ داری ہے کچھ لوگ seed collection کرتے ہیں،کچھ propagation beds سنبھالتے ہیں،کچھ sapling transplantation کے لیے ساحلی زمینوں پر کام کرتے ہیں۔یہ پورا عمل ایک مقامی کوآپریٹو ماڈل کی طرح چلایا جا رہا ہے، جس میں آمدنی سب میں بانٹی جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف غربت میں کمی آئی ہے بلکہ مقامی لوگوں میں ملکیت اور وابستگی کا احساس بھی پیدا ہوا ہے۔

حکومتی اور نجی شعبے کا اشتراک

حکومتِ سندھ کے فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ نے ہجامڑو کے علاقے میں نرسریوں کے لیے زمین، پانی اور تکنیکی مدد فراہم کی۔نجی شعبے کی کچھ کمپنیاں (خاص طور پر کاربن کریڈٹ پروگرامز سے وابستہ ادارے) نے ان نرسریوں سے سیدھی خریداری کے معاہدے کیے۔ اس نے مقامی لوگوں کو یہ اعتماد دیا کہ ان کی محنت کا براہ راست معاوضہ انہیں ملے گا۔

کمیونٹی کی شعوری تربیت اور ماحولیات سے وابستگی

نرسری کے آغاز کے بعد سے مقامی سطح پر ماحول کے بارے میں شعور میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسکولوں میں ماحولیاتی تعلیم کے سیشنز رکھے گئے، بچوں نے “میرا پودا میری ذمہ داری” مہم شروع کی۔کمیونٹی نے یہ سیکھا کہ مینگرووز نہ صرف سمندری طوفانوں سے بچاؤ فراہم کرتے ہیں بلکہ آبی حیات، آکسیجن اور مقامی آب و ہوا کے توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ایک نئی شناخت کی تشکیل

آج ہجامڑو کا نام اب صرف ایک گاؤں نہیں رہا، بلکہ یہ ایک “ایکو کمیونٹی ماڈل” کے طور پر جانا جا رہا ہے۔یہاں کے لوگ اب خود کو محض ماہی گیر نہیں بلکہ ماحولیاتی محافظ (eco-guardians) کہتے ہیں۔مقامی خواتین کو عزت ملی، نوجوانوں کو روزگار، اور بچوں کو بہتر مستقبل کی امید۔یہ شمولیت صرف معاشی یا ماحولیاتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب ہے، جس نے ہجامڑو کو پاکستان کے دیگر ساحلی علاقوں کے لیے ایک مثال بنا دیا ہے۔

  معاشی اثرات: روزگار، آمدنی اور مقامی معیشت میں بہتری

ہجامڑو کے ساحلی علاقے میں جب مینگرووز فارمنگ کی شروعات ہوئی تو کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ پودے صرف زمین کو نہیں بلکہ لوگوں کے معاشی مستقبل کو بھی سرسبز بنا دیں گے۔یہ صرف ایک ماحولیاتی منصوبہ نہیں، بلکہ ایک مقامی معیشت کی بحالی کی تحریک بن چکا ہے جہاں کبھی سمندر کی تیز ہواؤں کے ساتھ مایوسی چھائی رہتی تھی، آج وہاں کے باسی اس سبز معیشت سے نئی زندگی حاصل کر رہے ہیں۔

در پیش مسائل   

  سمندری پانی کا بڑھتا دباؤ اور موسمیاتی خطرات

ہجامڑو کا سب سے بڑا ماحولیاتی خطرہ سمندر کی بلند ہوتی سطح ہے، انڈس ڈیلٹا میں تازہ پانی کی کمی اور سمندری دراندازی کے باعث زمین کے بڑے حصے نمکین ہوتے جا رہے ہیں، اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں نرسریوں کے کچھ حصے کھارے پانی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر دریائے سندھ میں میٹھے پانی کا بہاؤ مزید کم ہوا تو مینگرووز کی بقا کے لیے قدرتی پانی کا توازن خطرے میں پڑ جائے گا، اس کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ انڈس ڈیلٹا میں باقاعدہ فریش واٹر ریلیز کی پالیسی بنائی جائے، مینگرووز کے لیے “ساحلی واٹر بیلنس پلان” تیار کیا جائے اور “کلائمیٹ ریزیلینٹ پلانٹیشن ماڈل” اپنایا جائے جو مختلف نمکیات میں بھی زندہ رہ سکے۔

  ادارہ جاتی تسلسل اور نگرانی

ایک اور چیلنج پالیسی اور ادارہ جاتی تسلسل کا ہے اکثر ماحولیاتی منصوبے شروع تو جوش سے ہوتے ہیں مگر چند سال بعد فنڈنگ یا توجہ کی کمی سے ماند پڑ جاتے ہیں، ہجامڑو کے منصوبے کو طویل مدتی بنانے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں کمیونٹی بیسڈ مانیٹرنگ سسٹم کا قیام،  جس میں مقامی افراد خود شجرکاری اور افزائش کے ڈیٹا کی نگرانی کریں ڈیجیٹل میپنگ اور سیٹلائٹ ٹریکنگ کے ذریعے پودوں کی بقا کی شرح معلوم کی جائے، سرکاری اداروں (مثلاً سندھ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ) اور نجی شراکت داروں کے درمیان سالانہ معاہدوں کی تجدید کی جائے، اگر یہ شفافیت برقرار رہی تو منصوبہ “پروجیکٹ” سے “پالیسی ماڈل” میں بدل سکتا ہے۔

 آبادی کا دباؤ اور زمین کا استعمال

ہجامڑو کی نرسریاں جن زمینوں پر قائم ہیں، وہ کبھی مقامی کسانوں یا چراگاہوں کے علاقے تھےآبادی میں اضافہ، رہائشی پھیلاؤ، اور مویشی پالنے کے دباؤ سے یہ علاقے دوبارہ خطرے میں پڑ سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ نرسری زون کے لیے قانونی زمین کے حقوق (land tenure rights) طے کیے جائیں۔ مقامی حکومت ان علاقوں کو “Protected Coastal Green Zones” قرار دے۔مویشیوں کے لیے متبادل چراگاہیں فراہم کی جائیں تاکہ درختوں کو نقصان نہ پہنچے۔


  تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کی کمی

اگرچہ کمیونٹی نے خود کو بدل لیا ہے، مگر اب بھی طویل المدتی کامیابی کے لیے ماحولیاتی تعلیم ناگزیر ہے، زیادہ تر افراد تجربے سے سیکھ رہے ہیں، مگر انہیں، ایکو سسٹم مینجمنٹ، بیج کی جینیاتی تنوع کی سائنس، اور کاربن فنانس سسٹم جیسے موضوعات پر تربیت کی ضرورت ہے اگر نوجوانوں کو ان پہلوؤں میں تربیت دی جائے تو وہ صرف مزدور نہیں، بلکہ ماحولیاتی ماہر بن سکتے ہیں، جو اس منصوبے کو اگلی نسلوں تک لے جائیں۔


 کاربن مارکیٹ میں شفافیت اور منافع کی تقسیم

کاربن کریڈٹ سے ہونے والی آمدنی ماحولیاتی منصوبوں کا بڑا محرک ہے،مگر اس کی تقسیم اگر غیر شفاف ہو تو کمیونٹی کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ہر سال کی آمدنی، خرچ، اور کمیونٹی کو ملنے والے حصے کی عوامی رپورٹ جاری کی جائے، خواتین اور نوجوانوں کو کاربن فنڈ کمیٹیوں میں نمائندگی دی جائے اور کاربن مانیٹرنگ کے لیے بین الاقوامی تصدیق (Third-party verification) لازمی ہویہ شفافیت نہ صرف اعتماد پیدا کرے گی بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے اس منصوبے کو مزید پرکشش بنائے گی۔


پائیداری کی حکمتِ عملی: مستقبل کی سمت

چیلنجز کے باوجود ہجامڑو کی نرسری کا مستقبل روشن ہے  بشرطِ اصلاح اور وژن کے ساتھ مستقبل کی حکمتِ عملی کو درج ذیل نکات میں ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ مقامی قیادت کو بااختیار بنانا، نرسری کے انتظامی فیصلوں میں کمیونٹی کونسلز کو مرکزی حیثیت دی جائے یہ کونسلیں مالیات، تربیت، اور شجرکاری کے اہداف طے کریں — تاکہ منصوبہ “اندر سے چلنے والا” بنے،  تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت قریبی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ماحولیاتی شعبوں کو شامل کیا جائے۔طلبہ کو “گرین انٹرن شپ پروگرام” کے تحت عملی تربیت دی جائے تاکہ علم و عمل کا ملاپ  ہو  خواتین کے لیے گرین انٹرپرائز ماڈل کے قیام کی ضرورت ہے ،  خواتین کو مینگرووز کے بیج، پودوں، اور قدرتی مصنوعات (جیسے جڑی بوٹیوں، کھاد، یا ہینڈ کرافٹ) کی تیاری میں چھوٹے کاروبار کے مواقع دیے جائیں اس سے منصوبہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ سماجی و معاشی مساوات کا بھی ضامن بنے گا۔ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم

سیٹلائٹ ڈیٹا، ڈرون فوٹوگرافی، اور کمیونٹی موبائل ایپ کے ذریعے نرسریوں کی حالت کی لائیو رپورٹنگ کی جائے۔یہ ماڈل عالمی اداروں   کے معیار سے مطابقت رکھتا ہے۔


  پالیسی انضمام

ہجامڑو ماڈل کو سندھ اور بلوچستان کے دیگر ساحلی علاقوں میں ریپلیکیٹ کیا جائے، اس کے لیے “National Mangrove Restoration Policy 2030” میں اسے شامل کیا جانا چاہیے۔اگر یہ پالیسی بن گئی تو پاکستان خطے میں “Blue Carbon Economy” کے رہنما ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔


پائیدار ترقی کے عالمی اہداف (SDGs) سے مطابقت

ہجامڑو کا منصوبہ اقوامِ متحدہ کے کئی Sustainable Development Goals (SDGs) سے براہِ راست جڑا ہوا ہے:

  SDG نمبر

عنوان

ہجامڑو نرسری سے تعلق

13

Climate Action

کاربن جذب اور موسمیاتی موافقت

14

Life Below Water

سمندری حیات کا تحفظ

15

Life on Land

حیاتیاتی تنوع اور زمین کی بحالی

8

Decent Work & Economic Growth

روزگار اور سبز معیشت کی تشکیل

5

Gender Equality

خواتین کی شرکت اور خودمختاری

17

Partnerships for Goals

نجی و سرکاری شراکت داری کا ماڈل

یہ تعلق بتاتا ہے کہ ہجامڑو کا یہ منصوبہ صرف مقامی نہیں، بلکہ عالمی پائیداری کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔


 مستقبل کی تصویر: امید کی سبز لکیر

اگر ہجامڑو کی نرسری کا سلسلہ آئندہ ۱۰ سے ۲۰ برس تک اسی تسلسل سے جاری رہا، تو یہ علاقہ نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے قدرتی کاربن زونز میں شامل ہو جائے گا۔اس وقت تک ہزاروں ایکڑ زمین دوبارہ زرخیز ہو جائے گی، لاکھوں پودے سمندر کے خلاف قدرتی دیوار بن جائیں اور سینکڑوں خاندان ایک مستحکم، پائیدار معیشت کا حصہ بن جائیں گے یہ وہ خواب ہے جس کی جڑیں ہجامڑو کی مٹی میں پیوست ہیں  جہاں ہر نیا پودا صرف آکسیجن نہیں، بلکہ امید کی سانس دیتا ہے۔


   ہجامڑو   فطرت کے ساتھ جینے کا ماڈل ہے ،  ہجامڑو کی کہانی محض نرسری کی کامیابی نہیں، بلکہ یہ ایک نیا معاشی فلسفہ ہے  ، ہاں فطرت کو نقصان پہنچا کر ترقی نہیں کی جاتی، بلکہ فطرت کے ساتھ مل کر ترقی کی جاتی ہے یہ وہ مقام ہے جہاں زمین، سمندر، اور انسان ایک ساتھ سانس لیتے ہیں، جہاں ہر پودا رزق کا ذریعہ ہے، باور ہر لہریں زندگی کی علامت یہ ماڈل بتاتا ہے کہ اگر ہم قدرت کو موقع دیں تو وہ ہمیشہ زندگی لوٹاتی ہے   دوگنا، خوبصورت، اور پائیدار۔