پاکستان کی کئی سرکاری جامعات نے تحقیقی اشاعتوں میں ویٹڈ آتھرشپ (Weighted Authorship) کا نیا نظام نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت ہر مقالے میں شامل مصنفین کو مختلف تناسب سے کریڈٹ ملے گا۔ نئی اسکیم کے مطابق پہلا مصنف اور کورسپانڈنگ مصنف ہر ایک کو 30 فیصد کریڈٹ ملے گا، جبکہ باقی 40 فیصد تمام مڈل آتھرز میں برابر تقسیم ہوگا۔
اس وقت زیادہ تر جامعات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر (BPS-20) کے لیے 10 تحقیقی اشاعتیں اور پروفیسر (BPS-21) کے لیے 15 اشاعتیں لازمی تصور کی جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ گزشتہ پانچ برسوں میں کم از کم پانچ مقالے شائع ہونا بھی لازمی شرط ہے۔
نیا نظام: مڈل آتھرز کے لیے بڑی تبدیلی
ماہرین کے مطابق جیسے ہی اس نظام کو عملی طور پر دیکھا جائے تو کئی اہم اثرات سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر چھ مصنفین پر مشتمل ایک مقالے میں، پہلا اور کورسپانڈنگ مصنف: 30–30 پوائنٹس جبکہ ہر مڈل آتھر: 10 پوائنٹس کا حقدار ہوگا۔
اس حساب سے اگر ایک مڈل آتھر کو ایسوسی ایٹ پروفیسر کے لیے درکار موجودہ 300 پوائنٹس حاصل کرنے ہوں، تو اسے اب 10 کے بجائے 30 مقالوں کی ضرورت پڑے گی۔ اسی طرح "پانچ اشاعتیں پانچ سال" کے اصول کے تحت بھی مڈل آتھر کو اب 15 ویٹڈ مقالے تیار کرنا ہوں گے—جو موجودہ تقاضے کا تین گنا ہے۔
پروفیسر لیول پر بھی یہی فارمولا ہے کہ پہلا یا کورسپانڈنگ آتھر: 15 مقالوں × 30 پوائنٹس = 450 پوائنٹس، مڈل آتھر کو یہی پوائنٹس لینے کے لیے: 45 مقالوں کی ضرورت پڑے گی۔ یوں سالانہ بنیادوں پر بھی مڈل آتھر کو اب ایک کے بجائے تین گنا زیادہ تحقیقی کام درکار ہوگا۔ اس سے اضافی نمبروں پر بھی اثرات مرتب ہونگے، بہت سی جامعات اضافی اشاعتوں پر 20 تک بونس مارکس دیتی ہیں۔ پہلے مصنف کے لیے فی اشاعت 2 نمبرز اور شریک مصنف کے لیے 1 نمبر مقرر ہیں۔ ویٹڈ سسٹم کے مطابق، پہلا یا کورسپانڈنگ آتھر 300 اضافی پوائنٹس کے لیے 10 مقالے شائع کرے گا، مڈل آتھر کو اسی سطح تک پہنچنے کے لیے تقریباً 30 مقالے درکار ہوں گے۔
حمایت اور خدشات — اکیڈمیا تقسیم ہو گئی
اکیڈمک کمیونٹی میں اس نئی پالیسی پر آراء تقسیم ہیں۔
حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ نظام تحقیق کی اصل قیادت کرنے والوں کو مناسب مقام دیتا ہے اور غیر ضروری یا اعزازی آتھرشپ کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ اس سے تحقیقی معیار بہتر ہونے کی امید بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ تاہم ناقدین نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الشعبہ (interdisciplinary) ٹیمیں، بڑے تحقیقی گروپس، ابتدائی کیریئر کے محققین، پوسٹ ڈاکٹرز سب پر اس تبدیلی کا غیرمتناسب بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اکثر نوجوان محققین اہم کردار ادا کرنے کے باوجود لیڈ آتھرشپ حاصل نہیں کر پاتے، جس سے ان کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے مزید نشاندہی کی کہ کئی جامعات اب بھی تمام انڈیکسڈ اشاعتوں کو برابر وزن دیتی ہیں چاہے وہ Nature یا The Lancet ہو یا کوئی عام اسکوپس جریدہ۔ اس مساوی درجہ بندی سے اعلیٰ معیار کی تحقیق کو مناسب ترجیح نہیں مل پاتی۔
فنڈنگ اور انفراسٹرکچر کے بغیر نفاذ مشکل
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ویٹڈ آتھرشپ کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنا ہے تو جامعات میں بہتر فنڈنگ، مضبوط تحقیقی انفراسٹرکچر، جدید لیبارٹریز، مؤثر انتظامی نظام کی فراہمی ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر نئے تقاضے پہلے سے محدود وسائل پر کام کرنے والے محققین پر اضافی دباؤ ڈالیں گے۔
پاکستان میں تعلیمی شعبے میں جاری اس پالیسی تبدیلی نے تحقیق اور ترقی کے نئے مباحث چھیڑ دیے ہیں—اور آنے والے مہینوں میں دیکھا جائے گا کہ جامعات اسے کس طرح عملی شکل دیتی ہیں۔