کراچی… شہرِ قائد کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ… اور اس کے دل میں دہکتی ایک قیامت۔ گل پلازہ آگ کی لپیٹ میں… کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود بے رحم شعلوں پر قابو نہ پایا جا سکا۔

عرفان علی عرفان علی

 کراچی…  شہرِ قائد کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ…  اور اس کے دل میں دہکتی ایک قیامت۔  گل پلازہ آگ کی لپیٹ میں…  کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود  بے رحم شعلوں پر قابو نہ پایا جا سکا۔


کراچی…

شہرِ قائد کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ…

اور اس کے دل میں دہکتی ایک قیامت۔

گل پلازہ آگ کی لپیٹ میں…

کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود

بے رحم شعلوں پر قابو نہ پایا جا سکا۔

دس زندگیاں جل کر راکھ ہو گئیں…

بیس سے زائد زخمی اسپتالوں میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ 

کراچی کے مصروف ترین تجارتی مرکز میں

خوف نے ڈیرے ڈال لیے۔

گزشتہ رات ساڑھے دس بجے

اچانک بھڑکنے والی آگ

دیکھتے ہی دیکھتے

ایک شاپنگ پلازہ کو

اپنی لپیٹ میں لے لیا


دھوئیں کے سیاہ بادل

آسمان سے باتیں کرنے لگے۔

چیخ و پکار…

بدحواسی…

اور ہر آنکھ میں خوف۔

ہوا کے گزر کا کوئی راستہ نہ تھا۔

کھڑکیاں بند تھیں…

اور عمارت دھویں سے بھر گئی۔

دم گھٹتا رہا…

سانسیں اکھڑتی رہیں…

اور دس انسان

بے رحم آگ کی نذر ہو گئے۔

سول اسپتال میں

بیس سے زائد زخمی زیر علاج ہیں۔

گیارہ کی حالت نازک…

ڈاکٹر کہتے ہیں

اموات دم گھٹنے سے ہوئیں۔

ریسکیو آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔

تین اسنارکلز…

دو واٹر باؤزرز…

چودہ فائر ٹینڈرز

آگ سے برسرِپیکار ہیں۔

پاکستان نیوی اور رینجرز کے جوان

شانہ بشانہ ریسکیو میں مصروف۔

پلازہ کے اطراف کی تمام سڑکیں بند۔

شہر کی سانسیں رکی ہوئی ہیں۔

آگ نے گراؤنڈ اور میزنائن فلور کو

مکمل طور پر جلا ڈالا۔

اوپر کی دو منزلیں

ابھی تک شعلوں میں گھری ہیں۔

ریسکیو اداروں کا کہنا ہے

عمارت کے پلرز کمزور ہو چکے ہیں۔

اندر سے دیواریں گرنے کی آوازیں

خوف کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔

ملبے کے ڈھیر

ریسکیو میں رکاوٹ۔

ہر قدم پر خطرہ…

ہر لمحہ آزمائش

تین منزلہ اس عمارت میں

بارہ سو سے زائد دکانیں تھیں۔

کپڑے…

کراکری…

پرفیوم…

میک اپ…

الیکٹرانکس…

کھلونے…

برسوں کی کمائی

چند لمحوں میں راکھ بن گئی۔

تاجر بے بسی سے

اپنی جلتی دکانیں دیکھتے رہے۔

کوئی اذان دیتا رہا…

کوئی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتا رہا۔

تنویر۔۔۔۔صدر کل پلازہ ایسوسی ایشن 

سول اسپتال کے باہر

غم کا ہجوم۔

لواحقین کی آنکھوں میں آنسو…

چہرے سوال بنے ہوئے۔

کچھ ماؤں نے بیٹے کھو دیے…

کچھ بچوں کے سر سے سایہ اٹھ گیا۔

گورنر سندھ…

میئر کراچی…

سیاسی رہنماؤں نے

واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

متاثرہ تاجروں اور خاندانوں سے

تعاون کی یقین دہانی۔

آگ لگنے کی وجوہات کی

فوری تحقیقات کا حکم۔

جاوید عالم اوڈھو  آئی جی سندھ پولیس 

ضلعی انتظامیہ کے مطابق

گل پلازہ 1989 میں تعمیر ہوا تھا۔

عمارت کا ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔

فائر سیفٹی آلات موجود نہیں تھے۔

ملبہ ہٹانے کے لیے

ہیوی مشینری طلب کر لی گئی ہے۔

گل پلازہ کی یہ آگ

صرف ایک عمارت کو نہیں جلا گئی…

یہ کئی گھروں کے چراغ بجھا گئی۔

کئی خواب راکھ کر گئی۔

ریسکیو آپریشن جاری ہے…

مگر

متاثرین کے دلوں میں

دکھ، خوف اور بے بسی کی آگ

ابھی تک دہک رہی ہے۔