وفاقی محتسب انسداد ہراسانی کشمالہ خان کا
کہنا ہےہراسانی کا شکار خواتین شرمندہ ہونے کے بجائے آواز اٹھائیں۔اسمارٹ فون
کے دور میں دو میسج اور کو ئی ریکارڈنگ
شکایت درج کرانے کے لئے کافی ہے۔
وفاقی محتسب انسداد ہراسانی کشمالہ خان کا
کہنا ہے ہراسانی ہر جگہ ہیں ،لیکن شکایات درج نہیں ہو رہی۔ خواتین شرمندہ نا ہوں بلکہ آواز اٹھائیں۔
ڈاؤ یونیورسٹی میں خطاب کرتے
ہوئے کہا کہ انسداد ہراسانی قانون کا غلط استعمال نہیں ہورہا۔چار ہزار کیسز
میں 99 فیصد میں خواتین سچی نکلیں۔
کشمالہ خان کا کہنا تھا ایکسیڈینٹ اور
منی لانڈرنگ کے کیسز میں پریشر تھا۔ ہراساں کیا گیا۔ آج جہاں کھڑی
ہوں،، وہاں تک بہت کچھ فیس کیا ہے ۔