جامشورو: سندھ کے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں اور دانشوروں کا ملکی صورتحال پر اظہارِ تشویش

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

جامشورو: سندھ کے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں اور دانشوروں کا ملکی صورتحال پر اظہارِ تشویش

جامشورو: سندھ سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں، اسکالرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ دانشوروں نے ملک کی موجودہ سیاسی، آئینی اور وفاقی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں حقیقی عوامی جمہوریت اور جمہوری وفاقیت موجود نہیں، جس کے باعث بین الحکومتی، بین الصوبائی اور عوام و ریاست کے درمیان تضادات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک مشترکہ اعلامیے میں دستخط کنندگان نے کہا کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں بدامنی اور کشیدگی، پنجاب میں مبینہ طور پر پولیس اسٹیٹ کا تاثر اور سندھ میں بالخصوص نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی موجودہ نظام پر عوام کے اعتماد کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ آئین کو بہتر بنانے اور 18ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد کے بجائے آئینی و وفاقی ڈھانچے کو غیر جمہوری اور غیر وفاقی ترامیم کے ذریعے کمزور کیا جا رہا ہے۔ دستخط کنندگان کے مطابق ملک کے اہم اداروں، نظام اور فیصلہ سازی کے اختیارات پر اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے وفاقی نظام کے بنیادی توازن کو متاثر کیا ہے۔

سندھ کے ادیبوں اور دانشوروں نے کارپوریٹ فارمنگ، زمینوں، پانی، معدنیات اور قدرتی وسائل سے متعلق منصوبوں پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی زمینوں، دریائے سندھ اور پانی کے وسائل سے متعلق کسی بھی ایسے اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا جو صوبے کے آئینی، تاریخی اور معاشی حقوق کو متاثر کرے۔

اعلامیے میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مبینہ منصوبوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ دستخط کنندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر نئے صوبے بنائے جانے ہیں تو یہ عمل آئین کے آرٹیکل 239(4) کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی منظوری سے ہونا چاہیے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ سندھ کی وحدت ناقابلِ تقسیم ہے اور سندھ کے عوام کی تاریخی، قومی، ثقافتی اور سیاسی شناخت کا تحفظ ضروری ہے۔ دستخط کنندگان نے سندھ کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ کی وحدت اور حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔

اعلامیے میں دریائے سندھ پر نئے کینالز، غیر قانونی نہروں اور متنازع ڈیموں کے منصوبوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ دریائے سندھ کا تحفظ سندھ کے تاریخی، قومی، تہذیبی، ثقافتی، معاشی اور ماحولیاتی وجود سے براہِ راست وابستہ ہے۔

دستخط کنندگان نے مزید کہا کہ سندھ 1940 کی قرارداد کے تحت وفاق میں رضاکارانہ طور پر شامل ہوا تھا اور وفاق کے ساتھ سندھ کا تعلق اس کی وحدت، خودمختاری اور تاریخی وجود کے آئینی تحفظ سے مشروط ہے۔

پڌرنامي پر دستخط کرنے والوں میں نصیر میمن، عامر لطیف صدیقی، ڈاکٹر مبارک لاشاری، اکبر سومرو، ڈاکٹر اسحاق سمیجو، آفتاب احمد خانزادہ، ڈاکٹر حسین مسرت شاہ، امر سندھُو، ڈاکٹر عرفانہ ملاح، ڈاکٹر سنتوش کمار، مرتضیٰ سیال، یوسف جویو، غلام رسول چانڈیو، ڈاکٹر بھائی خان شر، منیر چانڈیو، ادریس لغاری، وحید چانڈیو، علی دوست عاجز، عزیز گوپانگ، جامی چانڈیو اور ڈاکٹر سیف جونیجو شامل ہیں۔