لاہور میں لوہاری گیٹ کے قریب دھماکاہوادھماکا اس قدر شدید تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔دھماکے کے باعث لوہاری گیٹ کے اطراف میں واقع عمارتوں کے شیثے ٹوٹ گئے اور قریب کھڑی موٹر سائیکلیں بھی متاثر ہوئیں۔
واقع کی اطلاع ملتے ہی ڈی سی لاہور موقع پر پہنچ گئے۔ڈی سی لاہور عمر شیر چھٹہ کے مطابق دھماکے میں تین افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔تمام زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیاہے۔ ترجمان سی آئی اے کے مطابق لاہور دھماکاکےبعد ایس پی انویسٹی گیشن سٹی اورایس پی سی آئی اے کی سربراہی میں پولیس ٹیم تشکیل دے دی گئی، پولیس اور فرانزک ٹیموں نے جائے دھماکہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جلد ملزمان کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عابد خان کا کہناہےکہ لاہور دھماکے کا ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا ہے۔جاں بحق ہونے والوں میں رمضان اور ابصار شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق پلانٹڈ ڈیوائس سے دھماکہ کیا گیا،بارودی مواد کس میں نصب تھا کہنا قبل از وقت ہوگا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہناہےکہ انارکلی بازار دھماکا امن و امان کی فضاء کو سبوتاژ کرنے کی کارروائی ہے، دھماکے کے ذمہ دار قانون کی گرفت سے نہیں بچ پائیں گے، ہم دھماکے میں جاں بحق افراد کے اہلخانہ کے دکھ اور درد میں برابر کے شریک ہیں۔
ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئےکہاکہ لاہور کیلئے آج افسوسناک دن تھا، تمام ہمدردیاں جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کیساتھ ہیں، دھماکے کی مزید تحقیقات جاری ہیں