رواں برس مارچ میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے کیمپس میں تیندوے کی موجودگی نے ایک نئی ماحولیاتی بحث کو جنم دیا۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق یہ محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ انسان اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کی واضح علامت ہے، جو قدرتی ماحول کے تیزی سے سکڑنے کے باعث پیدا ہو رہا ہے۔
جب انسان ترقی کے نام پر فطرت کے دائرے میں مداخلت کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں جنگلی حیات کو اپنا قدرتی مسکن چھوڑ کر انسانی آبادیوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے خطرناک صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
مارگلہ کے پہاڑوں میں جنگلی حیات کا بے دخل ہوتا مسکن
تیندوے کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے مختلف مقامات پر پنجرے نصب کیے اور شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کیں۔
خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم جانور تاحال پکڑا نہیں جا سکا۔ ماہرین اس واقعے کو ایک بھٹکے ہوئے جانور کا معاملہ قرار دینے کے بجائے قدرتی مسکن کی تباہی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔
تین مئی کو منائے جانے والے انٹرنیشنل لیپرڈ ڈے کے موقع پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے اطراف انسانی آبادی کے پھیلاؤ، جنگلات کے سکڑنے اور قدرتی شکار کی کمی نے تیندووں کو انسانی آبادیوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے وائلڈ لائف پریکٹس لیڈ محمد جمشید اقبال چوہدری کے مطابق تیندوے نئے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن اسلام آباد اور گردونواح میں ان کی موجودگی دراصل ان کی اپنے گھروں سے بے دخلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے قدرتی مسکن ٹکڑوں میں تقسیم ہو رہے ہیں
، جنگلی حیات انسانی غلبے والے علاقوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ خوراک کی تلاش میں جب جنگل میں شکار کم ہو جاتا ہے تو تیندوے قریبی آبادیوں میں آسان شکار کی تلاش میں داخل ہوتے ہیں، جس سے خوف اور تصادم کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
ترقیاتی منصوبے اور قدرتی ماحول کے لیے ابھرتے خطرات
حالیہ برسوں میں اسلام آباد میں شہر کے پھیلاؤ، نئی سڑکوں، رہائشی منصوبوں اور کمرشل تعمیرات میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے قریب ہونے والی تعمیراتی سرگرمیوں نے قدرتی توازن کو شدید خطرات سے دوچار کیا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق مارگلہ کے دامن میں وسیع اراضی پر مشتمل تفریحی پارک، ہوٹلز، اسپورٹس فیسیلٹیز اور اولمپک ولیج کی تجاویز سامنے آئی ہیں، جن پر ماحولیاتی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان کے مطابق مارگلہ ہلز نیشنل پارک ایک انتہائی حساس ماحولیاتی خطہ ہے اور اس کے قریب کسی بھی قسم کی ترقیاتی سرگرمی ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق ان سرگرمیوں سے جنگلی حیات کے قدرتی راستے متاثر ہوتے ہیں، مسکن بکھر جاتا ہے اور جنگلات کی وہ ماحولیاتی خدمات بھی متاثر ہوتی ہیں جو مقامی آبادی کو حاصل ہوتی ہیں۔
بھاری مشینری، درختوں کی کٹائی، شور اور روشنیاں جنگلی حیات کو خوف اور دباؤ میں مبتلا کرتی ہیں۔
مارگلہ کے جنگلات اسلام آباد کے لیے قدرتی پھیپھڑوں اور واٹر فلٹر کی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان کی تباہی موسمیاتی تبدیلیوں اور فضائی آلودگی کے خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔
انسانی اور جنگلی حیات کا تصادم-کسانوں اور جانوروں کا معاشی و جانی نقصان
جنگلی جانوروں کے انسانی آبادیوں میں آنے کا سب سے زیادہ نقصان مقامی کسانوں اور مال مویشی پالنے والوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جب تیندوا کسی کسان کے مویشی کو ہلاک کرتا ہے تو وہ اس کی زندگی کی جمع پونجی سے محروم ہو جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں انسان اور جنگلی حیات کا تصادم شدت اختیار کر چکا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق صرف خنجراب نیشنل پارک اور ملحقہ علاقوں میں 2023 کے دوران برفانی تیندووں اور دیگر جنگلی حیات کے حملوں کے 499 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اسی معاشی نقصان کے باعث 2015 سے 2023 کے درمیان مقامی افراد نے کم از کم چھ برفانی تیندووں کو ہلاک کر دیا۔
ماہرین کے مطابق ایک غریب کسان کے لیے جنگلی حیات کے تحفظ کے نظریات اس وقت بے معنی ہو جاتے ہیں جب اس کا معاشی استحکام خطرے میں پڑ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات مقامی افراد زہر، پھندوں یا بندوق کے ذریعے جانوروں کو مارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے فطری ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے عملی، جدید اور دیرپا حل
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے جوبلی جنرل انشورنس کمپنی اور مقامی محکمہ جنگلی حیات کے تعاون سے گلیات میں ’لائیوسٹاک انشورنس اسکیم‘ کا پائلٹ منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اگر کسی جنگلی جانور کے حملے میں کسان کا مویشی ہلاک ہو جائے تو سرکاری تصدیق کے بعد اسے مالی معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے۔
اس اقدام کا مقصد مقامی آبادی کو معاشی تحفظ فراہم کرنا اور انہیں انتقامی کارروائی سے روکنا ہے تاکہ جنگلی حیات اور انسانوں کے درمیان بقائے باہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اس منصوبے میں ویلج کنزرویشن کمیٹیاں بھی شامل ہیں، جو معاوضے کے عمل کو شفاف اور تیز بنانے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ماہرین کو امید ہے کہ اس ماڈل کو مستقبل میں دیگر زیادہ متاثرہ علاقوں تک بھی توسیع دی جائے گی۔
جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگلی حیات کی نگرانی
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان جنگلی حیات کی نگرانی اور تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کر رہا ہے۔ جنگلات میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس کیمرہ ٹریپس نصب کیے گئے ہیں، جو تیندووں کی نقل و حرکت اور تعداد پر نظر رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ تیندووں کو جی پی ایس کالرز پہنائے جا رہے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت کو مانیٹر کیا جا سکے اور انسانی آبادیوں کی طرف بڑھنے کی صورت میں پیشگی اقدامات کیے جا سکیں۔
وائلڈ لائف رینجرز کو ’اسمارٹ‘ سسٹم کی تربیت بھی دی جا رہی ہے، جو جنگل میں گشت، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور قوانین پر عمل درآمد میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ اس جدید نظام کے ذریعے جنگلی حیات کے تحفظ کے اقدامات مزید مؤثر بنائے جا رہے ہیں۔
بقائے باہمی ہی محفوظ مستقبل کی ضمانت
ماہرین ماحولیات خبردار کرتے ہیں کہ اگر مارگلہ کے قدرتی ماحول کو مزید تجاوزات اور تعمیراتی سرگرمیوں سے نہ بچایا گیا تو اسلام آباد کے شہری علاقوں میں انسان اور جنگلی حیات کے تصادم کے واقعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ جنگلی حیات خطے کے ماحولیاتی توازن کا اہم حصہ ہے، اور حکومت، ترقیاتی اداروں اور شہریوں کو مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ترقی کے نام پر ان جانوروں کے قدرتی مسکن تباہ نہ کیے جائیں۔
انسان اور فطرت کے درمیان بقائے باہمی ہی ماحولیاتی تحفظ، آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل اور اس خطے کے قدرتی حسن کو برقرار رکھنے کی ضمانت ہے۔