سندھ کے صوبائی وزیرِ تعلیم سید سردار شاہ نے کہا ہے کہ تعلیمی مسائل کو صرف سندھ یا کسی ایک صوبے تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ پاکستان کا تعلیمی نظام 1947 سے مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہے، جبکہ اسکول نہ جانے والے بچوں کا مسئلہ بھی پورے ملک میں موجود ہے۔
سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید سردار شاہ نے کہا کہ 2020 اور 2022 کے سیلاب کے دوران سندھ کے تقریباً 20 ہزار اسکول متاثر ہوئے، جن میں سے اب بھی تقریباً 6 ہزار اسکول بحالی کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق ان اسکولوں کی بحالی میں اپنی ذمہ داری ادا کرے۔صوبائی وزیرِ تعلیم نے بتایا کہ اسکول اسپیسفک بجٹ کے ذریعے پہلی مرتبہ اسکولوں کو براہِ راست مالی وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اسکول اسپیسفک بجٹ 18 ارب روپے تھا، جسے بڑھا کر 30 ارب روپے کردیا گیا ہے۔سید سردار شاہ نے کہا کہ تنقید اور احتساب جمہوریت کا حصہ ہیں، تاہم اگر کسی اقدام کو سراہا نہیں جاسکتا تو کم از کم ایسے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں جو سندھ کے عوام اور محکمۂ تعلیم سے وابستہ اساتذہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں۔