کراچی انٹرفیتھ نیٹورک پروجیکٹ کے آغاز کی تقریب
کراچی انٹرفیتھ نیٹورک پروجیکٹ
شروع کرنے کا بنیادی مقصد ایسا پلیٹ
فارم مہیا کرنا ہے جہاں انٹرفیتھ لیڈرز دیگر اداروں اور افراد کے ساتھ مل کر ملک
کے سب سے بڑے اور اہم ترین شہر سے نفرت انگیزی، تشدد پسندی، مذہبی و فرقہ وارانہ
عصبیت کا خاتمہ کرسکیں اور امن و آشتی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جاسکے۔
اس پروجیکٹ میں کمیونٹی لیڈرز، ذرائع ابلاغ کے ماہرین، معاشرے کے عام
افراد، نجی و سرکاری ملازمین، اساتذہ و طلبہ شامل ہوں گے۔انٹرفیتھ نیٹورک ، شعور
فاونڈیشن برائے تعلیم و آگہی کے تحت قائم کیا گیا ہے۔
شعور فاونڈیشن کے سربراہ سید
علی حمید نے کراچی انٹرفیتھ نیٹورک کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یے نیٹورک آپسی
رنجشوں کو بھلا کر ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنا ہوگا
پروگرام کے مہمان خصوصی لعل اکرانی ممبر صوبائیاسمبلی سندھ نے اس موقع پر کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما ہر شہری کو مذہب، فرقے ، زبان کی تفریق کے بغیر تعلیم ، ملازمت سمیت تمام حقوق دینے پر متفق ہیں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں میں تمام اقلیتوں کی نمائندگی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ اعزازی مہمان نند کمار گولکانی، رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ہمارے رہنما پیر صاحب پگارا نے ہمیشہ اقلیتی طبقے کو خاص اہمیت دی ہےیہی وجہ ہے کہ ہر مذہب اور فرقے کے لوگ ان کا احترام کرتے ہیں۔منگلا شرما، رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ حکومت کی طرف سے شروع سے ہی اس پروجیکٹ کو سراہا گیا ہے۔
ڈاکٹر محسن نقوی ، معروف اسکالر نے کہا کہ ہمیں ہر قسم کے عقائد کا
احترام کرنا چاہئے۔ اس پروجیکٹ کے اثرات انتہائی دور رس ثابت ہوں گے۔
بشپ
نذیر عالم نے کہا کہ ہم سب کو مل کر مذہبی ہم آہنگی کے لئے کام کرنا چاہئے۔ علامہ
محمد احسان صدیقی، چئرمین انٹرفیتھ کمیشن برائے امن و ہم آہنگی نے کہا کہ اس پروجیکٹ
کی مدد سے ہماری اگلی نسل کو پرامن معاشرے کے قیام میں آسانی حاصل ہوگی۔
خواتین کا کردار بھی اس میں اہم ترین ثابت ہوگا۔ اس موقع پر پاسٹر
امجد فاروق، توفیق وسان، جويريا اعوان، سیف اللہ چنہ اور دیگر بھی موجود
تھے