کراچی منگھوپیر میں ڈاکؤوں کے ہاتھوں نوجوان کے قتل کا واقعہ ۔ لواحقین کا منگھوپیر تھانے کے باہر احتجاج دوسرے روز بھی جاری۔ ایس ایچ او منگھوپیر کو معطل کردیا گیا۔
منگھو پیر مہران سوسائٹی کے گھر میں ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے نوجوان کی موت کے واقعہ پر لواحقین کا احتجاج جاری ہے۔مقتول کے والد کا کہنا ہے پولیس نے مقدمہ درج کر لیا،لیکن ملزم تاحال گرفتار نہ نہیں ہوئے۔گزشتہ رات ایس ایس پی ویسٹ منگھوپیر تھانے آئے تھے۔انہوں نے اندر بلایااور کہا لاش کی بےحرمتی ہو رہی ہے۔ اس کو ایدھی سردخانہ میں رکھوا دیں۔ہم نے تھانے کے باہر سے میت ہٹانے اور دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ نہیں تسلیم کیا۔آج شام چار بجے اورنگی ٹاؤن دس نمبر اور ناردرن بائی پاس پر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔قاتلوں کی گرفتاری تک احتجاج جاری رکھیں گے۔مقتول کے والد نے شکوہ کیا کسی حکومتی عہدیدار نے تعزیت نہیں کی اور نہ ہی اعلیٰ حکام دادرسی کے لیے پہنچے۔دوسری جانب ڈی آئی جی ویسٹ نے ایس ایچ او تھانہ منگھوپیر کو جرائم کنٹرول کرنے میں ناکامی پر معطل کردیا۔