کراچی میں سچل کے علاقے میں مبینہ بھتہ خوروں نے ریسٹورنٹ حملہ کر کے
توڑ پھوڑ کی اور ہوٹل مالک اور ملازمین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں ، پولیس نے
اعلیٰ حکام کی اجازت کے بغیر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا
سچل تھانے کی حدود میں ریسٹورانٹ پر اتوار کی شب نصف درجن سے زائد افراد نے حملہ کر کے ریسٹورانٹ پر توڑ پھوڑ کی اور وہاں موجود ملازمین اور ریسٹورانٹ کے مالک کے بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا ، حملہ آوروں نے ہوٹل پر آئے ہوئے گاہگوں کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں ، ریسٹورانٹ کے مالک غلام اکبر نےچہرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سول انجنئیر ہے اور 15 سال سے زائد عرصہ تک بیرون ملک رہنے کے بعد کچھ عرصہ قبل واپس اپنے ملک آگیا اور اپنا کارروبار شروع کیا تاہم یہاں موجود لینڈ مافیا اور بھتہ مافیا کے کارندوں نے تنگ کرنا شروع کر دیا ، انہوں نے بتایا کہ اکثر مسلحہ افراد ان کے ریسٹورانٹ پر آجاتے اور وہاں موجود گاہکوں اور ملازمین کو دھمکیاں دیتے تھے ، غلام اکبر کا کہنا تھا کہ مسلحہ افراد ان سے 50 ہزار روپے ماہانہ بھتے کا مطالبہ کر رہے تھے تاہم انہوں نے ان کو بھتہ دینے سے انکار کر دیا اتوار کی شب وسیم خان ، اشفاق عباسی ، محبوب عباسی ، سجاد عباسی ، اور منصور عباسی سمیت دیگر افراد نے ان کے ریسٹورانٹ پر حملہ کیا ،
حملہ آور مسلحہ تھے اور انہوں نے فائرنگ بھی کی جبکہ وہ مسلسل ریسٹورانٹ کے مالک کو بلانے کا بولتے رہے ، انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مددگار 15
کو اطلاع دی تو پولیس فوری طور پر موقعے پر پہنچ گئی تاہم اس وقت تک حملہ آور فرار ہوچکے تھے ، واقعے کی رپورٹ کرانے تھانے پہنچے اور ایس ایچ او کو پورے واقعے کی موبائل فوٹیج بھی دکھائیں جس پر ایس ایچ او نے واقعے کی درخواست وصول کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی ایسٹ کے حکم کے بغیر مقدمہ درج نہیں کر سکتے ، ریسٹورانٹ کے مالک کا کہنا تھا کہ بھتہ خوروں کو علاقہ پولیس کی سرپرستی حاصل ہے
کیونکہ اکثر جب وہ ان کے ریسٹورانٹ پر آئے ہیں تو پولیس موبائل ان کے ساتھ آتی ہے اور کچھ فاصلے پر کھڑی رہتی ہے ، انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ ، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اور ان کے اہلخانہ کو جرائم پیشہ افراد سے تحفظ دیا جائے