کراچی میں میڑک کے امتحانات کے دوران بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کی
کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی۔ پہلے طلبہ کو
ایڈمٹ کارڈز کی فراہمی مسئلہ بنی رہی اور آج امتحانی مراکز میں پرچہ تاخیر
سے پہنچا۔ طبیعات کے مضمون کا پرچہ سینٹرز پر پہنچنے سے قبل ہی آؤٹ ہوگیا.
کورونا وباء کےدوران میٹرک بورڈ انتظامیہ کےپہلے امتحان کےموقع پر انتظامیہ بری طرح ناکام رہی ۔۔پہلے ایڈمٹ
کارڈز کی فراہمی پیچیدہ عمل بنا رہا اور پھر کراچی کے بیشتر امتحانی مراکز پر
امتحانی پرچے ایک سے ڈیڑھ گھنٹوں کی تاخیر سے پہنچے۔۔ طبیعات کا پرچہ سینٹرز پر
پہنچنے سے قبل ہی آؤٹ بھی ہوگیا۔۔چیئرمین میٹرک بورڈ کا کہنا ہے کہ پہلا روز تھا
کل سے انتظامات بہتر ہونگے۔ پرچے تاخیر سے کیوں پہنچے اور پیپر آؤٹ کیوں ہوا۔ اس کی
تحقیقات کی جائیں گی۔۔۔کراچی میں طالبات کے لیےدوسوایک اورطالباءکےلیےانتظامیہ
کےمطابق جن سینٹرزپرپرچےتاخیرسےپہنچےوہاں طلبہ کواضافی وقت فراہم کیاجائےگا۔۔۔دوسوسینتس
امتحانی مراکزمیں دسویں جماعت سائنس گروپ کےایک لاکھ چون ہزارستاون امیدوارشریک ہیں۔۔۔