پی ایف یو جے نے 31 جنوری کو پیکا ایکٹ کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا

عمران عمران

 پی ایف یو جے نے 31 جنوری کو پیکا ایکٹ کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا


پی ایف یو جے نے 31 جنوری کو پیکا ایکٹ کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا،،

ادھر کراچی پریس کلب میں پییکاترمیمی بل کے پس منظر میں میڈیا کے مستقبل کےعنوان سےنشست منعقدہوئی ۔ل

۔مقررین نےکہاکہ جلدبازی میں  بل کی منظوری سمجھ سے بالاہے۔۔۔ کیا صدر کے دستخط کے بعد بھی بات چیت ہوسکتی ہے؟ 

پییکا ترمیمی بل 2025 کے پس منظر میں میڈیا کے مستقبل پرکراچی پریس کلب میں نشست  منعقدہوئی۔

صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی نےکہاکہ ہم خود بھی چاہتےہیں کہ میڈیا کے لیے کچھ حدود محدود ہوں  

فاضل جمیلی،صدرکراچی پریس کلب۔۔۔ ٹھیک ہے یہ قوانین آتے ہیں ،حکومتیں اپنے لیے بناتی ہیں ،وہ سپریس کرنےکےلیےبناتی ہیں ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ ہماری اپنی ذمہ داریاں بھی ہیں ،بطورمیڈیاکہ میڈیا کو بھی ظاہر ہے ہم کہتے ہیں مادر پدر آزاد نہیں ہونا چاہیے ،

ان کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں توان کوبھی اپنے طور پرکوئی نہ کوئی مکنیزم کرناچاہیےکہ کیا چیز دینے سے پہلے ہمیں کتنا چیک کرناچاہیے،کتناہمیں فیک نیوزکوروکنےکےلیےہم کیاکیاٹولز استعمال کرسکتےہیں۔

صدرایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اور نیوز ڈائریکٹرزاظہر عباس کاکہناتھاکہ بل سےقبل کوئی بات چیت نہیں ہوئی محض چندگھنٹوں میں بل ایوان میں پیش کردیاگیا 

اظہرعباس،صدرایمنڈ۔۔۔ نیشنل اسمبلی میں جب انہوں نے یہ چیز پیش کی تو مجھے اچھی طرح یادہےکہ ڈیڑھ بجےکےقریب میسج آیا انفارمیشن منسٹر کا اور سب کو ٹیلی فون بھی آئے مجھے بھی فون آیا کہ ڈھائی بجےتک آپ اس پرہمیں اپنےآرا بھیج دیں ۔

۔۔۔ہم آپس میں ڈسکس کر کے ان کو یہ بتائی رہےتھےکہ نیشنل اسمبلی نے وہ بل بھی پاس کردیا ۔

قانونی ماہر بیرسٹر صلاح الدین نےکہاکہ ہمیں کہاگیا کہ اب بات چیت کریں،کیا صدر کے دستخط کے بعد بھی بات چیت ہوسکتی ہے

بیرسٹر صلاح الدین،قانونی ماہر۔۔۔یہ وہ والی پیپلزپارٹی بھی نہیں ہے ،پی ایم ایل این بھی نہیں ہے  انکا کمپٹیشن صرف یہ ہے کہ ہم مزیداپنی سروسزکیسےرینڈرکرسکتےہیں ،مجھےتومضحکہ خیزبات لگی تھی  کی  ہم نے ایکٹ پاس کردیاہے اورصدرصاحب نےبھی منظوری دے دی ہے ۔مگرآئیں اب ہمارےساتھ مذاکرات کریں 

سابق چئیرمین سینٹ رضاربانی نےکہاکہ ایوان میں بغیربحث ومباحثےکوبلوں کی منظوری قابل افسوس ہے۔

رضاربانی،سابق چئیرمین سینیٹ۔۔۔افسوس کی بات ہےکہ پارلیمان کے اندرکوئی بھی بل ہو،چاہیےوہ اہم ہوچاہیےوہ غیراہم ہواس پر ڈسکشن نہیں ہوتی،رسمی طور پر اسٹینڈنگ کمیٹی کوبھیجاجاتاہےاوروہاں پرایک یا دودن میں پاس کرکےبغیر کسی بحث کے وہ بل دونوں ہاوسززسےپاس ہوجاتاہے

صحافی تنظیموں نےاکتیس جنوری کو پیکا ایکٹ کیخلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کردیا۔۔ پی ایف یو جے سمیت تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے پریس کلب اور یونین کے دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں  گے۔ ریلیاں بھی نکالی جائیں گی۔