سندھ میں گیس لوڈشیڈنگ کے معاملے پر کیس میں وفاقی سیکریٹری خزانہ اور پیٹرولیم کو توہین عدالت کے نوٹس جاری۔

نزاہت خان نزاہت خان

سندھ  میں گیس لوڈشیڈنگ کے معاملے پر  کیس میں    وفاقی سیکریٹری خزانہ اور پیٹرولیم کو توہین عدالت  کے نوٹس جاری۔

سندھ  میں گیس لوڈشیڈنگ کے معاملے پر  کیس میں    وفاقی سیکریٹری خزانہ اور پیٹرولیم کو توہین عدالت  کے نوٹس جاری۔  سندھ ہائی کورٹ نے  تحریر ی حکم نامے میں    کہا ہے کہ سندھ  میں گیس کی  قلت بظاہر آئین کے آرٹیکل نو کی خلاف ورزی ہے۔حکم دیا کہ  آئندہ سماعت پر دونوں  ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر  وضاحت کریں،،کہ عدالتی احکامات پر عمل کیوں نہیں ہوا۔

سندھ ہائی کورٹ   میں  کراچی سمیت سندھ بھر میں گیس کی لوڈ شیڈنگ  کے معاملے پر سماعت ہوئی۔ایم ڈی، سوئی سدرن نے عدالت  میں پیش  کردہ رپورٹ میں بتایا کہ گیس  فیلڈز کے پانچ کلو میٹر دائرے  میں آنے والے دیہاتوں کو گیس فراہمی کا پہلا مراحلہ مکمل کرلیا ہے۔ دوسر ا مرحلہ جون دوہزار بائیس تک  مکمل ہوجائے گا۔اس کی خاطر  سوئی  سدرن کمپنی نے اپنے حصے کے چودہ  کروڑ چار لاکھ مختص کردئیے ہیں۔ وفاق نے اپنے حصے کے پیسے  جاری نہیں کئے۔

عدالت نے معاملے پر تحریر ی حکم نامہ جاری کردیا۔ حکم نامہ میں  کہا گیا ہے کہ  عدالتی احکامات پر عمل  نہ کرنے پر پہلے بھی سیکریٹری  پیٹرولیم کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔  لیکن سپریم کورٹ نے شوکاز معطل کردیا تھا۔ عدالت سمجھتی ہے کہ وفاقی حکومت نے  یقین دہانی کے باوجود سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرایا۔ اپنے حصہ کا بجٹ گیس فراہمی کے منصوبوں کے لئے جاری نہیں کیا۔ اب عدالت کے پاس وفاقی سیکریٹری کو جاری کئے گئے شوکاز نوٹس بحال کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں  ہے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سندھ سب سے زیادہ گیس کی پیداوار دے رہا ہے۔ پھر  وہاں گیس کی لوڈ شیڈنگ کیوں ہورہی ہے۔ایسی صورتحال بظاہر آئین کے آرٹیکل  نو  کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے وفاقی سیکریٹری خزانہ اور پیٹرولیم کو توہین عدالت  کے شوکاز نوٹس جاری کر کے،، ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ حکم دیا کہ   آئندہ سماعت پر دونوں سیکریٹریز وضاحت کریں کہ یقین دہانی کے باوجود عدالتی احکامات پر کیوں عمل درآمد نہیں کیا گیا۔