بلوچستان کے ماہی گیروں نے قیمتی ترین کراکر کا شکار کرلیا
تیکنیکی مشیر ڈبلیو ایف پاکستان، معظم خان کے مطابق جیوانی کے قریب ماہی گیروں کے جال میں ایک ساتھ 18 کراکرزپھنس گئیں، کراکر
بلوچی زبان میں "کر" کہا جاتا ہے، مچھیروں نے بڑی مچھلی 5لاکھ اور چھوٹی
مچھلی ایک لاکھ روپے میں فروخت کی، ایک روزہ شکار کےدوران مچھیروں نے تقریباً
8لاکھ روپے کمائے ہیں، پاکستان بڑے کروکرز کی دو اقسام جاپانی اور اسپاٹڈ پائی جاتی
ہیں، کروکرز قیمتی ہونے کی وجہ ان کا سوئم بلیڈر یعنی پوٹا ہے سوئم بلیڈرز
کوصابن،جوڑو کے درد کےاور دیگر بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور چین
میں اسے سکھا کر سونے کی طرح سنبھال کر رکھا جاتا ہے