سینئر صحافی اختر بلوچ کے اچانک وصال پر کراچی کے
صحافیوں نے فیس بک کی اپیلی کیشن اور سوشل میڈٰیا پر اپنے خیالات کا کیسے
اظہارکیاہے آئیے جانتےہیں ۔
چہرہ نیوز کے سینئر رپورٹر عرفان منگی کہتے ہیں کہ کراچی کے
سینئر نامور صحافی مصنف اور محقق اختر بلوچ کبھی بھلایا نہیں جاسکے گا ۔ ۔اختر بلوچ کا نام کراچی کی تاریخ تمدن، تہذیب اور اس پر پڑتے آثار کے
حوالے سے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکےگا۔
اختر بلوچ کو کراچی کا دھڑکتا دل
کہیں تو بےجا نہ ہوگا ، کراچی انکا رومانس تھا کراچی کو سوچنا، اس پر غورکرنا اسکی
فکرکرنا اسے چاہنا ، اس کا خیال رکھنا اپنے احساس میں محبت کی خوشبو بھر کے وہ
کراچی پرساری زندگی کئی تصانیف سپردقلم کرتےرہے۔
اختر بلوچ کا آبائی علاقہ میر پور خاص تھا لیکن کراچی نے انہیں ہمیشہ اپنے
باہوں کے حصار میں لے رکھایہی وجہ تھی کہ وہ کراچی کے ہوکر رہ گئے ۔
کراچی کی تاریخ ،تہذیب، ثقافت ، علم وفنون، آرٹ، قدیم عمارتیں ،مساجد ،
مندر ،گرجاگھر،چرچ شاہراہوں پر اختر بلوچ کے لکھے لفظ ہمیشہ سانس لیتے محسوس ہونگے۔اختربلوچ انسانی حقوق کے
بڑے علمبردار تھے۔
سندھ کے سینئر صحافی تجزیہ نگار مصنف قاضی آصف لکھتے ہیں کہ
میرا کچھ ساماں، تمہارے پاس پڑا ہے، وہ بھجوا دو،،
آج اپنے دوست اختر بلوچ سے آخری ملاقات کیلئے جیسے
ہی کچھ دوست کراچی پریس کلب کی اوپری منزل پر کٹھے ہوئے تاکہ سب ساتھ ہی انکے گھر
جائیں۔.
جس کرسی پر اختر بلوچ بیٹھتے تھے، اس کے پیچھے کونے
میں ایک چھوٹی سی ٹیبل پڑ رہتی تھی جس پر وہ اپنا سامان رکھتے تھے۔.
میری اس ٹیبل پر نظر پڑی تو آنکھیں بھیگ گئیں. ایک
چھوٹی کنگی، اسپغول کے ساشے، کچھ کاغذات، ڈکشنری اور کچھ کتابیں رکھیں ہیں جو،
جمعرات تک ان کے استعمال میں رہیں. وہ چلے گئے، ان کا کچھ ساماں،،، ،،،،
پاکستان کے معروف صحافی ریاض سہیل لکھتے ہیں کہ آموں کے درختوں میں گہرے میرپور خاص کی ایک شناخت اختر بلوچ بھی تھی ، وہ
جنرل ضیا الحق دور کی اس نوجوان نسل سے تعلق رکھتے تھے۔
جو سیاست میں سرگرم رہی اسی میں وہ جوان عمری میں جیل گئے،
میرپورخاص کس سٹیزن کلب جیمخانہ ہو
یا کوئی ادبی علمی سرگرمی وہ وہاں سر گرم رہے
جب انسانی حقوق کمیشن کا جنم ہوا
تو وہ اس کا متحرک حصہ بن گئے اور یوں میرپور خاص سے حیدرآباد آگئے
جہاں صحافت سے بھی منسلک ہوگئے، ان دنوں جبری مشقت کے خلاف تحریک زور پر
تھی
عاصمہ جھانگیر اور ان کے ساتھیوں پر نگرانی اور ناراضگی تھی ایک روز اختر بلوچ
اٹھا لیے گئے
اور ان پر ان کے ہی ساتھی جو ان
دنوں دلتوں اور ہندو حقوق کے علمبردار ہیں الزام عائد کیا اور گواہ بن گئے،
کچھ ماہ کی مہمان نوازی کے بعد رہا ہوئے ، روزگار اور حالات انہیں کراچی لے
آئے یہاں ان کی بیگم محکمہ صحت میں ملازم تھیں ،
کراچی میں وہ انسانی حقوق کمیشن سے
زیادہ ایک بلاگر کے طور پر مشہور ہوئے اس سے قبل وہ خواجہ سراؤں پر ایک کتاب لکھ
چکے تھے اور اس کے علاوہ کرانچی والا کے نام سے ان کی تین کتابیں ہیں
جو ان کے بلاگز پر مشتمل ہیں ، کراچی کی تاریخ پر کس نے کیا لکھا ہے کب
لکھا ہے اور یہ کتاب دستیاب ہے یا نہیں انکوائری نمبر وہ ہی تھے ، ریگل چوک اور
فریئر ہال مارکیٹ میں پرانی کتابوں کے اسٹالز پر ہر اتوار کو وہ منڈلاتے رہتے،
انہوں نے کراچی کی تاریخ کو کرید کر نوجوانوں کو اس سے روشناس کرایا ،
قدیم عمارتوں ، مقامات اور واقعات کو زبان، آنکھیں دیں جو قاری سے مخاطب
ہوتے تھے، قادو مکرانی ہو یا سیٹھ ناؤ مل انہوں نے سب کو سامنے لاکر کھڑا کردیا۔
کچھ ماہ قبل والدہ کی برسی کے پروگرام کے بعد مجھے ملے کہنے لگے یار تمہاری
تحریر سن کر آنکھیں نم ہوگئیں،
ہماری مائیں ایسی ہی رہی ہیں انہوں
نے بتایا کہ جب ان کی گرفتاری ہوئی تو ان کی والدہ ان کے اور ساتھیوں کے لیے کھانا
بنا کر آتیں ان کے کپڑوں دہوتی تھیں ،
اختر نے میری بیگم کو مشورہ دیا کہ والدہ پر کتاب ضرور لکھیں اس میں جو مدد
چاہئیے وہ فراہم کریں گے
، ایڈٹنگ سے لیکر پروفنگ تک ،،، لیکن اس سال ساون ،، دوستوں کے باغ سے ایک
آم کا درخت لے گیا ۔