ماہی گیروں نے ابراہیم حیدری کے سمندرسے انڈو پیسیفک سیل فش پکڑلی ۔
ماہرین کےمطابق جسمانی خدوخال کی وجہ سےپاکستان میں اس مچھلی کااستعمال نہیں کیاجاتا۔
انڈو پیسیفک سیل فش ماہی گیروں کے جال میں ابراہیم حیدری کےقریب پھنسی۔
ماہرین کےمطابق پاکستان میں سالانہ بنیادوں پردولاکھ کلوسےزائدانڈوپیسیفک سیل فش پکڑی جاتی ہے۔
جو جسمانی خدوخال کی وجہ سےپاکستان میں استعمال نہیں کی جاتی۔
سالانہ بنیادوں پرپکڑی جانےوالی مچھلی پڑوسی ممالک میں برآمد کی جاتی ہے۔
حالیہ پکڑی جانےوالی مچھلی کاوزن تیس کلوسےزائدہےجس کو ماہی گیروں نے دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیا۔