کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد چوتھی بار ملتوی کردیا گیا۔

عمران عمران

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد چوتھی بار ملتوی کردیا گیا۔

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد چوتھی بار ملتوی کردیا گیا۔ کبھی شدید بارشیں، سیلاب  تو کبھی پولیس نفری اور انتخابی عملے کی کمی اور اب نئی حلقہ بندیاں التوا کا سبب بنی۔کب ،،کون سا مسئلہ بلدیاتی الیکشن کی راہ میں حائل  ہوا۔


کراچی میں بلدیاتی انتخابات ہیٹ ٹرک مکمل کرنے کے بعد اب چوتھی دفعہ ملتوی کردئے گئے ہیں۔


 21 جولائی کوبلدیاتی انتخابات کادوسرا مرحلہ ہونا تھا،،،لیکن  الیکشن کمیشن  آف پاکستان نے الیکشن کمشنر سندھ اور محکمہ موسمیات کی رپورٹس پر انتخابات  ملتوی کردیئےاور ۔ 28 اگست کی نئی تاریخ دی۔


ایک بار پھر 24 اگست کوبارشوں اور سیلابی صورتحال پرصوبائی الیکشن کمشنر اور ضلعی انتظامیہ کی رپورٹ پر  28 اگست کو ہونے والے کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات ملتوی  کردیئے گئے۔


16 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے 23 اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ لیکن 18 اکتوبر کو الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت کے خط کے بعد سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا  پھرمرحلہ ملتوی کردیا۔


14 نومبر2022 کو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کیا اور 18 نومبر 2022 کو بلدیاتی الیکشن کرانے کاحکم دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو شیڈول جاری کرنے کاحکم دیا ۔


22 نومبر 2022 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی الیکشن 15 جنوری 2023 کو کرانے کا فیصلہ کیاگیا۔


گیارہ  جنوری کو متحدہ قومی موومنٹ، پاک سر زمین پارٹی اور ڈاکتر فاروق ستار نے کراچی میں  بلدیاتی حلقہ بندیاں نہ کرنے کے خلاف  الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کیا اور 12 جنوری کو پی ایس پی اور ڈاکٹر فاروق ستار متحدہ قومی مومنٹ میں دوبارہ شامل ہوگئے۔ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قائدین نے ایک بار پھر بلدیاتی حلقہ بندیاں کرنے کا مطالبہ دہرایا۔


اسی رات 11بجے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری اسلام آباد سے کراچی پہنچے اور وزیر اعلی ہائوس میں وزیر اعلی سندھ اور اہم وزرا کے ساتھ حلقہ بندیوں کے مسئلے پر مشاورت کی۔ جس کے بعد 15 جنوری کو ہونے والے انتخابات کو ملتوی کرتے ہوئےفیصلہ کیا  کہ بلدیاتی حلقہ بندیاں دوبارہ کی جائے گی۔