پاکستان پیپلزپارٹی
کراچی ڈویژن کے صدر و صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ 2018 کے دھاندلی شدہ
انتخابات کے نتائج کو کراچی کے عوام نے پیپلز پارٹی کو اس شہر کی سب سے بڑی سیاسی
جماعت قرار دے کر بے نقاب کردیا ہے۔
تحریک
انصاف کا 2018 کے کراچی کے خناس کو ان کے دماغ سے نکال دیا ہے۔ اب تک کے غیر سرکاری
نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے 100 سے زائد یونین کونسلز میں کامیابی حاصل کرلی
ہے۔ مئیر کراچی کوئی ایک جماعت نہیں لاسکتی البتہ یہ بات حتمی ہے کہ پیپلز پارٹی
تحریک انصاف سے کسی صورت مئیر کے لئے بات نہیں کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں
نے پیر کے روز سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
]اس موقع پر پیپلز
پارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری،نجمی عالم، سلمان مراد،آصف خان،
خلیل ہوت،جاوید شیخ،عامر خان، سلیم کھوکھر، طالب بلوچ و دیگر بھی
ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، صدر
آصف علی زرداری، ادی فریال ٹالپور، وزیراعلی سندھ، تمام اضلاع کے صدور و عہدیداروں،
کارکنوں سمیت کراچی کے عوام سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، سعید غنی نے کہا کہ
کل کے انتخابات میں کراچی کے عوام نے پیپلزپارٹی پر اعتماد کیا اور پیپلزپارٹی
کراچی میں سنگل لارجیسٹ پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔
سعید
غنی نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہم سب سے بڑی پارٹی بن کر آئیں گے۔ انہوں
نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دماغ میں ہوا تھی کہ کراچی کے عوام ان کے ساتھ ہیں اس ہوا
کو اس شہر کے غیور عوام نے ان کے دماغ سے نکال دی ہے۔
سعید
غنی نے کہا کہ میں جماعت اسلامی اور ان کے امیر کراچی حافظ نعیم الرحمان کو بھی
مبارکباد پیش کرتا ہوں، ان کی کارکردگی بہتر رہی اور وہ اب تک کے نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی
سے تھوڑا سا پیچھے ہیں اور لوگوں نے ان پر بھی اعتماد کیا ہے۔
سعید غنی نے
کہا کہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے کراچی کے شہریوں کے خدمت کی ہے اور اس کے
ثمرات کل کے انتخابات کے نتائج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میئر کے دونوں امیدواروں
کی ہار ہوئی ہے اور جو
تیسرا جیتا
ہے اس کو سیٹ چھوڑنی پڑے گی کیونکہ وہ ایم پی اے ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ پاکستان پیپلز
پارٹی کے حوالے سے یہ تاثر غلط ہے کہ وہ کبھی کراچی سے کامیاب نہیں ہوئی، پیپلزپارٹی
نے 1970میں بھی کراچی میں کامیابی حاصل کی تھی، 1977میں بھی عوام دوست کے نام سے ہم
کامیاب ہوئے تھے۔
1983
میں بھی ہم فاتح ہوئے تھے، 2001میں بھی ہماری اور اتحادیوں کی نشستیں زیادہ تھی،
اس وقت ہمارے میئر کو آنے نہیں دیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ
ہماری تو خواہش تھی کہ ایم کیو ایم انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرے، لیکن وہ ایک سیاسی
جماعت ہے اس نے جو بہتر سمجھا وہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ماضی میں بھی
قومی اسمبلی اور بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن اس انتخابات میں جو قومی
اسمبلی اور بلدیاتی نمائندے منتخب ہوئے تھے انہوں نے کام کیا۔ ایم کیو ایم کے
احتجاج کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ یہ ان کا حق ہے کہ وہ احتجاج کرے، بیان دے یا
جو کچھ جمہوری طور پر ایک سیاسی جماعت کو کرنے کا حق ہے وہ کرے۔ایک سوال کے جواب میں
سعید غنی نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے اور تمام کامیاب پارٹیوں سے بات کریں گے کہ مئیر
پیپلز پارٹی کا ہو البتہ ہم تحریک انصاف سے کسی صورت بات نہیں کریں گے۔ ایک اور
سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ نتائج کی تاخیر پر ہمیں بھی تشویش ہے۔ انہوں
نے کہا کہ خود میں نے حافظ نعیم الرحمان سے بھی رابطہ کیا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ
ہم سو سے زائد یوسی چیئرمین جیت رہے ہیں اور جماعت اسلامی ہم سے چند نشستیں پیچھے
ہے۔
ایک سوال پر
انہوں نے کہا کہ ملیرسے 21 یوسی ہم جیتے ہیں، ضلع جنوبی میں لیاری ٹائون سے ہم نے
کلین سوئپ کیا جبکہ صدر سے بھی ہم نے کامیابی حاصل کی ہے اور جنوبی سے اب تک 16 یوسیز
جیتی ہیں اور مزید 1 سے 2 پر ہمارا مقابلہ ہے، ڈسٹرکٹ سینٹرل جہاں پہلے 1 سیٹ تھی
اب ہم وہاں سے اب 5 یوسیز پر فاتح ہوئے ہیں،ڈسٹرکٹ کورنگی سے 6، ڈسٹرکٹ کیماری سے بھی کلین سوئپ کیا ہے اور وہاں سے 25
سے 26 نسشتون پر کامیابی حاصل کرلی ہے، اسی طرح ویسٹ سے 16 سے 18 پر فاتح ہوئے ہیں
اور ایسٹ میں 15 سیٹیں جیت چکیں ہیں۔ مئیر کراچی کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ پی
ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو چھوڑ کر بھی پچیس دیگر امیدوار جیتے ہیں، اس کے علاوہ
مخصوص نشستوں پر بھی ہماری نشستوں کے حساب سے زیادہ ارکان ہوں گے اس لئے ممکن ہے
ہم مکمل نتائج کے بعد اس پوزیشن میں ہوں گے اپنا مئیر خود بنا سکیں۔ ایک سوال پر
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی اتحاد کرسکتے ہیں توشاید ممکن
ہوسکےگا۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ
ڈی سیزکے ذریعے نتائج تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ خود میرا ایک بھائی ہار گیا ہے، اگر ایسا
ہو تو وہ بھی جیت جاتا۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی
کوغلط فہمی تھی، وہ جو دعوہ کرتے رہے وہ کہاں ہے، ان کے دماغ میں جو خناص ہے وہ
نکل گیا ہے۔ کراچی کے لوگوں کے لئے پی ٹی آئی نے اپنے دورمیں کچھ نہیں کیا۔ وزیر
اعلٰی سندھ کا جماعت اسلامی کے پاس جانے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر
اعلی سندھ صوبے کے وزیر اعلٰی ہیں۔ وہ جماعت اسلامی کے پاس پہلے بھی گئے تھے اب بھی
جاسکتے ہیں۔ انتخابات میں ووٹ کا تناسب کم ہونے کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے
کہا کہ ووٹ کا تناسب کم تھا لیکن برا نہیں تھا۔ اس کے سبب بھی ہے کہ پچھلے سات ماہ
سے یہ انتخابات التوا کا شکار تھے اور 14 جنوری کی رات تک خود ہمارے امیدوار میں غیر
یقینی صورتحال کا شکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کے تناسب کم ہونے کا سب سے بڑا
سبب غیر یقینی صورتحال ہے البتہ ایم کیو ایم بھی ایک سیاسی جماعت ہے اور ان کا بھی
ایک بینک ووٹ ہے وہ بھی کچھ اس کا سبب بنے ہیں لیکن غیر یقینی صورتحال سب کی بڑی
وجہ رہی۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے مئیر کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قانون
کے مطابق جو کونسل کا ممبر ہوگا وہ ہی مئیر بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے
سے پارٹی کی اعلٰی قیادت اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جس کو نامزد کریں گے،
انہوں نے کہا کہ۔نجمی عالم پارٹی کے بہت سنئیر کارکن ہیں ان کا نام بھی میئرکے لئے
زیر غور ہوسکتا ہے۔ سعید غنی نے ڈسٹرکٹ سائوتھ میں لیاری اور صدر ٹائون میں کامیابی
پر خلیل ہوتاور کرم اللہ وقاصی کی محنت
کو بھی سراہا اور کہا کہ لیاری سے کلئین سوئپ نے ثابت کردیا کہ 2018کے انتخابات
جھرلو انتخابات تھے۔ ایک اور سوال کے جواب پر سعید غنی نے کہا کہ تحریک انصاف والے
جس ویو کا کراچی میں دعوہ کرتے تھے پیپلز پارٹی نے اس کا تہس نہیس کردیا ہے۔