ایپکس کمیٹی سندھ کے اجلاس میں اہم فیصلے۔ افغان صورتحال کے پیش نظر
سیکیورٹی کے سخت اقدامات کی ہدایت۔وزیراعلی نے کراچی میں سیف سٹی پروجیکٹ کی لاگت کا ازسرنو جائزہ لینے کے لئے کمیٹی قائم کردی۔کچے
میں روڈ نیٹ ورک بنائے جائیں گے۔ گاڑیوں
پر بیٹھے مسلح گارڈز کا نوٹس اور کارروائی کی ہدایت۔
وزیر اعلیٰ سندھ
مراد علی شاہ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ افغان صورتحال کے پیش نظر صوبے میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات کا فیصلہ ہوا۔وزیراعلی نے کہا کہ کالعدم تنظیموں
اور دیگرشرپسند عناصر پر کڑی نگرانی
کی جائے ۔ سوشل میڈیا پر نفرت آمیزمواداوردیگرمشکوک
سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جائے۔شرکا کو بتایا گیا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کےتحت کراچی میں10 ہزار سی سی ٹی وی
کیمرے لگانے کا پروگرام ہے۔ منصوبے کی لاگت 38 ارب روپے بنتی ہے۔ وزیراعلی
نے لاگت کا ازسرنو جائزہ لینے کے لئے کمیٹی
قائم کردی۔ان کا کہنا تھا کہ غیررجسٹرڈ
گاڑیوں پرمسلح گارڈزبیٹھےنظر آتے ہیں۔ اسلحہ کی نمائش ناقابل قبو ل ہے۔ غیررجسٹرڈیا اپلائیڈ فار رجسٹرین والی گاڑیوں کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ
ہوا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ
اسٹریٹ کرائم کے الگ ٹرائل کے لئے
جج کا تقرر کرے گی۔ ہرضلع کے اسٹریٹ کرائم
کے کیسز
الگ سے سنے جائیں گے۔ آئی جی سندھ نےکراچی میں11مختلف جگہوں پراحتجاج اور
ریلیاں نکالنے پر پابندی لگانےکی تجویز دی
تھی۔وزیراعلیٰ نے تجویز کی منظوری دی جس کا اعلامیہ جون دوہزار اکیس میں
جاری کیا گیا ۔آئی جی سندھ نے کچے میں
آپریشن کے حوالے سے بتایا کہ گھوٹکی میں3،
سکھرمیں6، کشمورمیں25اورشکارپورمیں 15گینگزکاخاتمہ کیا۔گھوٹکی اورسکھرسے2،2 جبکہ
کشمورسے39 اورشکارپورسے40 مغوی بازیاب
کرائے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ڈاکووںاورکالعدم
تنظیموں کےدرمیان رابطوں پرکارروائی کریں۔اسلحے کی سپلائی لائن ختم کی جائے۔ کچے
کے علاقے میں روڈ نیٹ ورک قائم کرنے کا بھی فیصلہ ہوا۔ وزیراعلی نے ہدایت
کی کہ قبائلی جھگڑوں کاخاتمہ قبائلی سرداروں کےذریعے کیاجائےگا۔