چھٹی کراچی انٹرنیشنل واٹر کانفرنس

عرفان علی عرفان علی

چھٹی کراچی انٹرنیشنل واٹر کانفرنس

چھٹی کراچی انٹرنیشنل واٹر کانفرنس کامیابی سے اختتام پذیر 
کراچی 27 اور 28 نومبر کو کراچی کے میریٹ ہوٹل کراچی میں منعقد ہونے والی چھٹی کراچی انٹرنیشنل واٹر ، کانفرنس پانی کے بحران اور آب و ہوا کے حوالے سے اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک اہم فورم ثابت ہوئی۔ دو روزہ کانفرنس نے پاکستان اور بین الاقوامی برادری دونوں کے مقررین اور پینلسٹس کی متنوع لائن اپ کے ساتھ گفتگو، پریزنٹیشنز اور پرکشش سیشنز کی سہولت فراہم کی۔
کانفرنس کا آغاز پارلیمانی طرز کی ایک پر اثر بحث کے ساتھ ہوا جس میں سیمی کمال، ڈاکٹر اگنا ماتا جیکب، ڈاکٹر مارک سمتھ اور دیگر نامور شخصیات شامل تھیں۔ پہلے دن کے قابل ذکر سیشنز میں افتتاحی پلینری، "آب و ہوا کی تبدیلی میں پانی کے معاملات" شامل تھے، جس کی سربراہی سیمی کمال نے کی اور ڈاکٹر عادل نجم کے کلیدی خطبہ نے ترتیب دیا۔ سیمی کمال کی زیر قیادت "عالمی پانی کے چیلنجز اور کراچی انٹرنیشنل واٹر کانفرنس کے 10 سال" کے موضوع پر گفتگو جاری رہی۔
پانی اور معاشیات کے حوالے سے دوسرا سیشن "فنانس کے لیے پانی کی اہمیت کیوں ہے: پانی کی معیشت میں سرمایہ کاری"جیسے اہم موضوع پر ہوا جس کے مقررین میں بو ہاک کھو اور ایک پینل جس میں ایمیلیو کیٹانیو، ماہین رحمن، کاظم سعید، فرانکوئس اونیمس اور عدنان اسدار شامل تھے جنہوں پاکستان کی آبی معیشت میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
تیسرے سیشن بعنوان "پانی کس کے لیے اہمیت رکھتا ہے: انصاف سے انکار" نے زمینی حقوق کے متزلزل ماحول میں آبی انصاف کے قیام پر روشنی ڈالی۔ اس سیشن کے شرکاءمحمد عرفان، رابیل اخوند، نذیر احمد میمن عیسانی اور شہاب استو نے اس اہم موضوع پر ایک زبردست اور مفید بحث کی ۔
"صحت اور غذائیت میں پانی کے معاملات: غیر واضح روابط " کے عنوان سے منعقدہ سیشن میں پانی کے معیار اور انسانی صحت کے درمیان پوشیدہ روابط پر بات کی گئی۔ اس سیشن کے کلیدی مقررین ڈاکٹر غزالہ منصوری اور ڈاکٹر کلثوم احمد تھے جب کہ دیگر میں ڈاکٹر ذوالفقار عمرانی، شیخ علی حسین اور ڈاکٹر ہما بقائی کے نام قابل ذکر ہیں۔
کانفرنس میں فطرت پر مبنی "واٹرشیڈ مینجمنٹ کے معاملات" کے حل پر بھی زور دیا گیا، اس سیشن کے شرکاءمیں آئی سی آئی ایم او ڈی ،آئی ڈبیلو ایم آئی، حصار فاﺅنڈیشن اور پی ایچ ڈبیلو آئی کے پینلسٹ شامل تھے۔ اس سیشن کی نظامت عافیہ سلام اور ڈاکٹر حمیرا جہانزیب نے کی۔ اس کے بعد منعقدہ سیشن کا عنوان تھا "پانی میں خواتین کا معاملہ: عمل کی مثالیں" جس کے پینلسٹ زہرہ علی، مہناز رحمن، ڈاکٹر لبنیٰ غزل، نایاب رضا اور رانا انصار شامل تھے ۔
"مینگرووز "طارق سکندر قیصر کی فلم اور سہیل نقوی کی ڈبلیو ڈبلیو ایف پریزنٹیشن میں بلیو اکانومی میٹرز: اوشینز، ویٹ لینڈز اور بائیو ڈائیورسٹی کے ذریعے بلیو اکانومی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس دن کا اختتام "کیفے آف دی ان ہیرڈ: نیو وائسز میٹر"پر ہوا جس میںمینٹورز اور شرکاءنے پانی کے مسائل پر وہ بحث کی جو اکثر مرکزی دھارے کی گفتگو میں نہیں کی جاتی۔
"کیفے آف دی ان ہارڈ: نیو وائسز میٹر" کے ذریعے واضح امور کی جامع انداز میں نشاندہی کی گئی‘ مینٹورز نے شرکاءکے ساتھ پانی سے متعلق ان مسائل پر روشنی ڈالی جو مرکزی دھارے کے مباحثوں میں نظر انداز کردیئے جاتے ہیں ۔اس تقریب ڈاکٹر پرویز امیر اور کوثر ہاشمی ، مارک اسمتھ اور انیق اعظم، ماہم مہر اور اریبہ سید ‘ ڈاکٹر عمران احمد اور معظم احمد اور باربرا شرینر شامل تھے۔ اس سیشن نے پانی سے متعلق چیلنجوں کے حوالے سے تازہ نقطہ نظر اور ان کہی کہانیوں کو تلاش کرنے کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کیا، جس میں وسیع تر گفتگو میں عام طور پر نہ سنی جانے والی آوازوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
کانفرنس کے دوران" کراچی کی پانی کی فراہمی پر تشویش "ایک نمایاں موضوع رہا، جس نے ایک دلچسپ بحث کو جنم دیا۔ حکومتی نمائندوں بشمول مرتضیٰ وہاب، چیئرکراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور صلاح الدین احمد،سی ای او کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ، سلیمان چانڈیو، ایوب شیخ اور شکیل قریشی نے متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ شہریوں کی نمائندگی محمد توحید، مسعود لوہار، سیما طاہر خان، یاسر حسین اور امبر علی بھائی کررہے تھے جنہوں نے کراچی کے 20 ملین باشندوں کے لیے پانی کی فراہمی اور موجودہ چیلنجز جیسے معاملات پر انتہائی متاثر کن انداز میں بات کی ۔
اختتامی حصے کے موڈریٹر زوہیر عاشر اور ثناء بخشا موسی تھے ۔ اس حصے میں پنجوانی حصار واٹر انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے سیشنز اور حصار فاونڈیشن کی چیئرپرسن سیمی کمال کی جانب سے ایک ڈسکشن شامل تھی ۔چھٹی کراچی انٹرنیشنل واٹر کانفرنس کا اختتامی کانفرنس میں ڈائریکٹر ثناء بخشا موسی کی خدمات کااعتراف کیا گیا جن کی کاوشوں سے اس کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس موقع پر کے جی ایس مڈل سیکشن چوائر کی جانب سے اثر انگیز گانا "ایس او ایس فراہم کڈز"پیش کیا گیا جس میں آنے والی نسلوں کی خاطر پانی سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
کانفرنس ایک خوشگوار اور انداز میں اختتام پذیر ہوئی، چائے کے اختتامی سیشن پر روابط اور مکالمے کی اہمیت کو فروغ دیاگیا۔ اس اہم دو روزہ تقریب نے نہ صرف پانی جیسے اہم ترین مسئلے پر روشنی ڈالی بلکہ باہمی تعاون کے ساتھ اس مسئلے کے حل کے لیے ایک پلیٹ فارم اور پانی کے بحران اور موسمیاتی گفتگو سے نمٹنے کے لیے تجدید عہد بھی کیا۔ چھٹی کراچی انٹرنیشنل واٹر کانفرنس عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کارروائی کی طاقت کا ثبوت ہے۔