کراچی سمیت سندھ کے تین تعلیمی بورڈز میں بحرانی
صورتحال ہے۔ پہلی بار سات روز کی تاخیر سے تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہوپائی ہے۔
امتحانی
نتائج کی تیاری اور نئے طلبہ کی انرولمنٹ کا معاملہ بھی معطل ہے۔
طلبہ نے
نگراں وزیر اعلی سندھ سے مسائل حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
سندھ کی نگراں حکومت نے تین تعلیمی بورڈز کے چیئرمین،
کنٹرولرز اور سیکریٹریز کو عہدوں سے ہٹایا،، تو انتظامی بحران نے جنم لے لیا۔
اداروں کے سربراہوں کی عدم تعیناتی کے سبب کراچی
میں اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ اور سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ہزاروں ملازمین
کو تنخواہیں بھی سات دن کی تاخیر سے احتجاج کرنے کے بعد ملیں۔
انٹر بورڈ کے سال اول اور ٹیکنیکل بورڈ کے ڈی اے
ای کے نتائج بھی تاخیر کا شکار ہوگئے ہیں۔ طلبہ کو مارک شیٹس اور سرٹیفکیٹس کے
حصول میں دشواری کا بھی سامنا ہے۔
23
نومبر کو صوبے کے دو بڑے تعلیمی بورڈز، انٹر بورڈ کراچی
اور سندھ ٹیکنیکل بورڈ سے چیئرمین کو فارغ کیا گیا تھا جبکہ بینظیر آباد سے سیکریٹریز
، ناظمین امتحانات اور آڈٹ آفیسرز کو بھی فارغ کردیا گیا تھا۔
ان بورڈز کے سربراہ کب آئیں گے۔ اس حوالے سے
ترجمان وزیر اعلی سندھ سے رابطہ کیا گیا۔ لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔