نگراں صوبائی وزیر اطلاعات سندھ محمد احمد شاہ اور نگراں وزیر تعلیم سندھ رعنا حسین کی پریس کانفرنس

نزاہت خان نزاہت خان

نگراں صوبائی وزیر اطلاعات سندھ محمد احمد شاہ اور نگراں وزیر تعلیم سندھ رعنا حسین کی پریس کانفرنس

نگراں صوبائی وزیر اطلاعات سندھ محمد احمد شاہ اور نگراں وزیر تعلیم سندھ رعنا حسین کی پریس کانفرنس

 

کراچی نگراں صوبائی وزیر اطلاعات سندھ محمد احمد شاہ اور نگراں وزیر تعلیم سندھ رعنا حسین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ سندھ میں بھرتیوں کے بعد اساتذہ کی کمی کا مسئلہ حل ہوا ہے،

 جس سے دور دراز علاقوں میں اسکولز کھولنے میں مدد ملی ہے، محکمہ تعلیم سندھ پر بے بنیاد الزامات لگا کر غلط معلومات پھیلائی جاتی رہی ہیں،

 سندھ میں نصاب پر کام ہو رہا ہے، ہمارا نصاب باقی صوبوں کے مقابلے میں بہتر ہے جس پر یونیسیف کی طرف سے مثبت تاثرات ملے ہیں۔ کتابوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اسکولوں میں بُک بینک کا تصور لا رہے ہیں۔

سندھ اسیمبلی کمیٹی روم میں ہونے والی پریس کانفرنس میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن شیریں ناریجو، سیکریٹری کالج ایجوکیشن صدف انیس شیخ، سیکریٹری اطلاعات سندھ ندیم میمن بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوۓ وزیر اطلاع سندھ محمد احمد شاہ نے کہا کہ نگراں سیٹ اپ کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ نگراں حکومت کو کام کرتا ہوا نظر آنا چاہیے،

 اپنے کام کے حوالے سے عوام کو آگاہ رکھنا محکموں کا فرض ہے۔ صوبائی وزیر رعنا حسین نے کہا کہ استاد ہونے ہر فخر ہے، انہوں نے تعلیم کے شعبہ میں کام کیا ہے، سندھ میں تعلیم کے شعبہ میں کام کرنے کی گنجائش موجود ہے، مگر سب کچھ خراب کہہ کر ہم اچھے کاموں اور درست چیزوں کے منہ نہیں موڑ سکتے،

 محکمہ تعلیم سندھ پر بہت سے الزامات لگاۓ جاتے ہیں، سندھ کا نصاب باقی صوبوں کے مقابلے میں بہتر ہے، ہمارے پاس اب اساتذہ کی کمی نہیں رہی جس کی وجہ سے بند اسکول کھولنے میں مدد ملی ہے، ہم ٹیچرز لائسنس پالیسی بنا چکے ہیں،

 اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے بایومیٹرک کے علاوہ آن لائین حاضری کا نظام متعارف ہوچکا ہے، صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں اساتذہ کے معیار پر دھیان نہیں دیا گیا

اساتذہ ہو ہونا بھی کافی نہیں ہوتا کس قسم کے اساتذہ ہیں وہ بھی دیکھنا ضروری ہے، اس ضمن میں پڑھانے طریقہ کار کو بہتر کرنے کیے لیے ٹریننگ کے سلسلے کو جاری رکھا گیا ہے، کتابوں کی کمی کے حوالے سے سوال پر صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ نصاب ہر سال تبدیل نہیں ہوتا تعلیمی سال مکمل ہونے پر اسکولوں میں کتابیں واپس جمع ہونی چاہیں، اسکولوں میں بُک بینک کا تصور متعارف کروانا ہوگا،

 اس سلسلے میں سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن نے کام شروع کردیا ہے۔ اس کے علاوہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے کتابوں کی چھپائی کا جو کام رک گیا تھا اس حوالے سے نگراں وزیر اعلیٰ سندھ نے فنڈز جاری کر دیے ہیں،

صوبائی وزیر رعنا حسین نے کہا کہ اسکولوں میں مِسنگ سہولیات کو پورا کرنے کے لیے فنڈ جاری ہوچکے ہیں تا کہ ہماری ترجیح سیلاب سے متاثرہ اسکولز کی بحالی پر بھی ہے اس ضمن میں عالمی اداروں کا تعاون بھی حاصل ہے،

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ چیزوں کو صحیح کرنے میں وقت لگتا ہے، مختصر وقت میں ہماری ایک زمہ داری تسلسل کو بحال رکھنا بھی ہے۔

 نصاب کے معیار پر حوالے سے سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس نے سنگل نصاب ہر اعتراض کیا تھا، میٹھ سائنس، انگلش اور کمپیوٹر کے علاوہ باقی سبجیکٹ پر صوبوں کو اپنا اپنا نصاب بنانے کا حق ہے اس میں پہل سندھ نے کی اور یونیسیف نے ہمارے نصاب ہے اچھے تاثرات دیے ہیں۔

 اس موقع پر سیکریٹری تعلیم شیریں ناریجو نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ 9 ہزار سے زائد اسکولوں کی مرمت کے فنڈز ریلیز ہوچکے ہیں اور ان پر کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ 5 ہزار سے زائد اسکولوں کی مرمت کا کام تکمیل کے قریب ہے۔


 اساتذہ کی بھرتی مرحلے میں ویٹنگ لسٹ امیدواروں کے حوالے سے سوال پر سیکریٹری اسکول ایجوکیشن نے کہا کہ اس معاملے پر کورٹ کی احکامات کو دیکھا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی حکومت کے محکمہ قانون کے ساتھ رابطے میں، ویٹنگ لسٹ کے امیدواروں کا بھرتی مرحلہ جلد شروع کروانے کی کوشش کریں گے