کوروناوائرس کی وجہ سے
سندھ میں لگنےوالےلاک ڈاون نےمزدورطبقےکوایک بارپھرپریشان کردیاہے۔۔۔کراچی میں پینٹراسدعلی
کہتےہیں کہ ہماراگزبسرمزدوری سےہوتاہے۔۔۔بازاربندہونےکی وجہ سے فاقہ کرنےپرمجبورہیں۔
بھوک افلاس لاچاری اور بے بسی کی تصویر بنایہ ہےچھپن سالہ
اسدعلی جو اپنی اشکبار آنکھوں سے حکومتی
اقدامات پرلگنےوالےلاک ڈاون کےباعث بندمارکیٹوں کی بندش کی وجہ سے اپنی روز مرہ کی آمدنی پر نوحہ کناں ہے۔اسد علی کہتے ہیں میں پیسےلیکرگیا،مجھےپانچ چھ
سوکےرنگ چاہیےتھے۔۔۔اورمیرانظام چل جاتاتھا۔۔۔لیکن دکانداروں نےشٹرنہیں اٹھایا۔۔۔باہربیٹھےہیں
رنگ والے۔۔۔پندرہ سودوہزارکی سیل ہوگی توشٹراٹھائیں گے۔۔۔یہ توپھرلاک ڈاون غریب
کےلیےہےنا۔۔۔امیرکےلیےتونہیں ۔۔۔جوبڑی خریداری کرےگااس کےلیےشٹراٹھایاجائےگا ۔۔۔غریب
کےلیےنہیں اٹھایاجائےگا۔۔۔
لاک ڈاون کے بعد دیہاڑی
دار مزدور کےگھر کا چولہا ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔ گھر میں بھوک کے سائے منڈلاتے ہیں اور باہر کورونا کے وار تھمنے کا نام نہیں لے
رہے ہیں ایسے میں یہ مزدور جائے تو جائے کہاں؟
اسدعلی کہتے ہیں میرےپاس تین
دن سےکام نہیں ہے۔۔۔پہلےروزکلرتھے۔۔۔بارہ سوکاکام کرلیا۔۔۔پھرآٹھ سوروپےتھےتین دن
میں کام نہ ملنےکی وجہ سے اٹھ گئے۔۔۔کام بھی مجھےمل جائےگااگر میرے پاس کلرہوتو۔۔۔
پینٹراسدعلی کہتاہےکہ رات
دن میں تبدیل ہوتی ہے اور دن رات میں لیکن ہفتےسےلگنےوالےلاک ڈاون کےباعث اس کی
زندگی جیسے ٹہرگئی ہے۔۔۔ سندھ حکومت نےصوبےمیں کوروناکیسزمیں اضافے کےباعث آٹھ تک
لاک ڈاون نافذکررکھاہےجس کےبعد تجارتی ،کاروباری اورتعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔