حاملہ عورتوں اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں خوراک کی کمی

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

 حاملہ عورتوں اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں خوراک کی کمی

ٹنڈوجام ملکی و عالمی ماہرین نے ملک میں خوراک و غذائیت کی کمی سے نمٹے کیلئے عملی اقدام اٹھانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ حاملہ عورتوں اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں خوراک کی کمی سے ملک کی آنے والین نسل سخت متاثر ہوگی،

 لہٰذیٰ تمام اسٹیک ھولڈرس کو زراعت میں پوسٹ ھارویسٹ لاسز کو روکنے، غربت کے خاتمے، نئے غذائی ذرائع پر تحقیق اور دیہی صحت پر توجہ دینے کیلئے یونیورسٹی سطح پر نیوٹریشن اویئرنیس پروگرامز کو توسیع دینے ھوگی، منگل کے روز سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے انسٹیٹیوٹ آف فوڈ سائنسز ایڈ ٹیکنالوجی کے زیرمیزبانی اور کوریا انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (کے او آئی سی اے) پاکستان، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے تعاون سے دوسری دورروزہ پاک-کوریا نیوٹریشن سینٹر (پی کے این سی) کانفرنس شروع ہوگئی ہے، جس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائیس چانسلر ڈاکٹر فتح مری نے کہا خوراک و غذائیت کی کمی کی وجہ سے ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے 45فیصد بچے متاثر ہیں، جبکہ32 فیصد سے زائد اپنی عمر کی مناسبت سے کم وزن اور 15فیصد شدید غذائی کمی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے مستقبل میں کمزور افرادی قوت کے ملک کی ترقی اور جی ڈی پی متاثر ہوگی، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زرعی پیداوار اور اس کے معیار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، لہٰذیٰ سائنسی اداروں، ماہرین اور اسٹیک ھولڈرس کے درمیاں فوڈسیکیورٹی کولابوریشن کی ضرورت ہے،

مھمان خاص سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈئریکٹر جنرل آغا فخر حسین نے کہا مضر صحت خوارک کی وجہ سے مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جس سے نمٹے کیلئے ہم فوڈ بزنس مانیٹرنگ سسٹم کو توسیع دی ہے، اس ضمن میں کیمکل، فوڈ انلائزز، اور مائیکروبائلاجی لیبارٹریز متحرک کی ہیں، جبکہ یونیورسٹیز کے گریجوئیٹس کیلئے تربیتی، انٹرنشپ پروگرام اور قابلیت کی بنیاد پر ان کی تقرریاں شروع کی ہیں، تاکہ وہ مقامی سطح پر اپنا کردار ادا کر سکیں، کوئیکا پاکستان کے ملکی نمائندے جیھو ویان نے کہا حکومت کے مشترکہ تعاون سے پاکستان میں غذائی تحٖظ کے منصوبوں پر معاونت کر رہے ہیں، جبکہ ماں اور بچے کی صحت اور ان کی بنیادی خوارک ایک اہم مسئلہ ہے، جامعات کو نیوٹریشن اور لوگوں کی صحت کے حوالے سے تحقیق اور غذائیت کے آگہی پروگرامز پر توجہ دینی ہوگی، پاکستان کورین نیوٹریشن سینٹر کے پروگرام مینیجر اور چنگنم نیشنل یونیورسٹی، جنوبی کوریا کے پروفیسر ڈاکٹر کیم جے ھان نے کہا زرعی پیداوار میں اضافے اور دیہی صحت پر توجہ کی ضرورت ہے، سندھ ایگریکلچر ریسرچ سندھ کے ڈئریکٹر جنرل نور محمد بلوچ نے کہا کہ ملکی خوراک کے تحفظ کیلئے 8 ملین غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور کچن گارڈننگ کیلئے دیہی خواتین تربیت دینے کی ضرورت ہے، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے ڈین ڈاکٹر مسعود صادق بٹ نے کہا کہ اس قسم کی عالمی کانفرنس سے بھتر نتائج کی امید ہے، پی کے این سی ایک بڑا منصوبہ ہے، جس کے فوڈ پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، فوڈ کمپوزیشن، ماں اور بچے کی صحت، اور ایڈوکیسی کے فوائد حاصؒ ہونگے،

 انہوں نے کہا  لیڈی ھلیتھ ورکرز، اسکولز اور پریکٹیشنزر کے ذریعے خاندانوں میں بچوں اور حاملہ خواتین کی صحت کے حوالے سے ایڈوکیسی کی جاسکتی ہے، ڈاکٹر جیمس روبرٹ اوکوٹھ نے کہا خوراک کی کمی کو روکنے کیلئے پوسٹ ھارویسٹ لاسز کو کم کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ پانچ سال سے کم بچوں کی صحت پر توجہ لازم ہے، جبکہ غذائیت سے بھرپور نئے خوراکی ذرائع پپر تحقیق کی ضرورت ہے،

اس موقع پر ڈاکٹر اکبر زرداری، ڈاکٹر اعجازحسین سومرو، ڈاکٹر تحسین فاطمہ، ڈاکٹر شہزور گل خاصخیلی نے بھی خطاب کیا، بعدازاں وائیس چانسلر اور دیگر مہمانان گرامی نے انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنسز میں سندھ حکومت کے فوڈ ڈپارٹمینٹ کی معاونت سے فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری، اور طلبہ و طالبات کی جانب سے تیارکردہ خوراکی اشیاء کی نمائش کا افتتاخ کیا، اس موقع پر جنوبی کوریا سے آنے والے مہمانان کراچی یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، ایگریکلچر ریسرچ سندھ، ایگریکلچر ایکسٹیشن، سمیت مختلف جامعات، تدریسی تحقیقی اداروں کے نمائندگان، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی