کراچی میں رمضان کی آمد
سے قبل سبزی اور گوشت کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ۔ سندھ حکومت کا دعویٰ
ہے کہ گراں فروشوں ہر جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں لیکن شہری کہتے ہیں ۔۔ جرمانے کی
قیمت بھی عوام ہی ادا کر رہے ہیں ، دکاندار سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد کرنے کو
تیار نہیں
رمضان کی آمد آمد ہے ۔
آخری ہفتہ وار چھٹی کے دن بازاروں کا رخ کرنے والے عوام سبزیوں کی قیمتیں سنتے ہی
بے حال ہو گئے ۔۔ پیاز کی قیمت 240 سے 250 ، ٹماٹر 200 سے 210 جبکہ شملہ مرچ کی فی
کلو قیمت 220 روپے کلو تک پہنچ گئی
بھائی بہت پریشانی ہو رہی
ہے بازار جاؤ تو سوچتے رہ جاتا ہے انسان کہ کیا خرید رہے ہوں کیا نہیں لیں اب پہلے
یہ ہوتا تھا کہ پہلے 10 ہزار میں پورا راشن ڈل دیا لیکن تھا اب تو بھائی 10 ہزار
روپے میں صرف یہ پیاز اور ٹماٹر یہی ہو رہا ہے
رمضان سے پہلے تو 80 روپے کلو مل رہا تھا پیاز ابھی میں 250
روپے کلو لے رہا ہوں دیکھیں تو یہ تو مجھے لگتا ہے یہ جو ہمارے غریب ہیں انہیں کو یہ
توڑ کر رکھ دیں گے
بغیر ہڈی بیف کی فی کلو قیمت
1400 روپے کلو جبکہ ہڈی والے بیف 1200 روپے فی کلووصول کی جا رہی ہے ، مرغی کا
گوشت 680 روپے کلو فروخت کیا جا رہا ہے بے بس شہری پریشان ہیں
اتنا مہنگا غریب لوگ تو لے
ہی نہیں سکتے دیکھیں ہمارے جیسے تو پھر بھی تھوڑا بہت کر لیتے ہیں جو غریب ہے وہ
کہاں جائے
ٹماٹر پہلے 100 کا تھا ابھی
انہوں نے 200 کا دے رہے ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے ۔۔یہ گورنمنٹ۔۔ اپنی
طرف سے بڑھا دیتےکی بھی نہیں مانتے
سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ
گراں فروشوں پر جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں لیکن دکاندار اور ان سے سامان خریدنے
والے شہری جرمانے عائد کرنے کو مہنگائی کا حل نہیں سمجھتے ۔۔ ان کا کہنا ہے کہ جب
تک ہول سیل مارکیٹ میں قیمت کم نہیں ہوگی دکاندار بھی سرکاری نرخ نامے پر عمل نہیں
کرے گا
کوئی فائدہ نہیں ہوگا
جرمانہ عائد کرنے سے جو ٹماٹر ابھی 100 روپے مل رہا تھا اس ٹائم وہ 200 روپے کلو
ہو چکا ہے اور ابھی رمضان میں وہ پتہ نہیں کتنے روپے کلو ہوگا
باہر جا رہی ہے پیاز ان کا
پیاز بند کر دیا تھا باہر جانا لیکن انہوں نے پھر چار دن کا ٹائم مل گیا پھر پیاز
کی پوزیشنوں پر چلی گئی
حکومتی دعویٰ اور وعدے اپنی
جگہ لیکن رمضان سے قبل آنے والے مہنگائی کی لہر نے شہریوں کی قوت خرید کو بری طرح
متاثر کیا ہے۔