حکومت
سندھ نےمرتضیٰ وہاب کو کراچی کا نیا ایڈمنسٹریٹرتو بنادیالیکن کیاوہ سیوریج کے پانی کی نکاسی، کچرااٹھانے ،پانی کی
فراہمی ،ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی مرمت اور پبلک ٹرانسپورٹ کی فراہمی جیسے مسائل حل کرسکیں گے ۔ کراچی کے شہری اُن
کی تعیناتی اور بلدیاتی مسائل کے حل کے حوالےسے کیا رائے رکھتے ہیں یہ سوال چہرہ
نے عام شہریوں سے پوچھا تو سب کی رائے مختلف تھی۔
ملک
کا سب سے بڑا صنعتی وتجارتی شہر کراچی لاتعداد بلدیاتی مسائل سے نبردآزما ہے۔شہریوں کاکہناہے کراچی میں خود
مختار بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کےباعث بلدیاتی مسائل
کا حل ہونا ممکن نظر آتا ہے۔
شہری محمد اعظم کہتے ہیں چہرےبدلنےسے کچھ نہیں
ہوگا ۔نظام بدلنا چاہئے، عبدالجبار کا کہناہےکہ سارے لوگ آتے ہیں کھاپی کر نکل
جاتے ہیں ،اون کرتے کراچی کو وہ ہی کچھ کرسکتے ہیں
اندرون سندھ میں کیا کرپائے جو کراچی کے لیے سوچ رہے ہیں کراچی کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتے۔کیا نئے ایڈمنسٹریٹر شہریوں کو بلدیاتی مسائل کے اس گرداب سے نکالنے میں کامیاب ہوسکیں گے؟؟ہم نیوزنےکراچی کے مختلف اضلاع کا دورہ کیا اور وہاں کے رہائشیوں سے اُن کی توقعات جاننے کی کوشش کی۔
شہری کہتے ہیں کہکام کرنے کی امید ہے کام تو کرسکتے ہیں ان کی جو ٹیم ہے اوور آل ان کی ٹیم کا فنکشن کیا ہوگا،کوئی تجربہ کار سلجھا ہوا آدمی بنانا چاہئے تھا
اچھی بات ہے انہیں بنادیا گیاحل ہوئیں تو کوئی بات بھی ہے.
کراچی
کے بیشتر شہریوں کی رائے ہے کہ خودمختاد بلدیاتی نظام ہی مرتضیٰ وہاب کوبطور ایڈمنسٹریٹر
کامیاب بناسکتا ہے۔کراچی کے منتخب میئر وسیم اختر بھی اختیارات نہ ہونے کےباعث
عوام کو اُن کے مسائل سے نجات نہ دلاسکے۔