پاکستان کی مدر ٹریسا ڈاکٹر رتھ فائوکی آخری آرام گاہ پر کیو آر کوڈ


پاکستان کی مدر ٹریسا ڈاکٹر رتھ  فائوکی آخری آرام گاہ  پر کیو آر کوڈ

کراچی، عدنان اطہر


پاکستان کی مدر ٹریسا ڈاکٹر رتھ  فائوکے بارے میں لوگ زیادہ سے زیادہ جاننے کی خواہش رکھتے ہیں ۔  اسی لئے ان کی آخری آرام گاہ  پر کیو آر کوڈ  لگادیا گیا ہے ۔۔ جسے اسکین کرنے سے ا ن کی زندگی کے دریچےکھل جاتے ہیں۔ یہ  ملک کی پہلی  قبر  ہے جس کو ڈیجٹلائز کیا گیا ہے۔

مارچ 1960 کی  سہ پہر اطالوی ائیرلائن  کی فلائٹ کراچی ائیرپورٹ پر پہنچی ۔اس میں  سے اترنے والوں میں   ایک 30 سالہ جرمن نژاد خاتون رتھ فاؤ بھی تھیں۔ جنہوں نے  پاکستان کو  اپنا دیس بنالیا۔۔

پاکستان کی مدر ٹریسا ۔ جنہوں نے   اپنی  زندگی  ملک میں جذام کے مریضوں  کے علاج معالجے کے لئے وقف کردی۔ گورا قبرستان،کراچی  میں  ان کی  قبر پر  قیو آر کوڈ لگا دیا گیا ۔۔ جسے اسکین کرنے  سے  عظیم شخصیت کی زندگی  کے بارے میں تمام تر معلومات حاصل کی جاسکتی

ہے۔

ایسے وقت میں جب  پاکستان میں کوڑھ کے مریض کو اچھوت سمجھا جاتا تھا اور سگے رشتہ دار بھی مریض کو مرنے کے لئے تنہا کسی مقام پر چھوڑ آتے۔۔تو ڈاکٹر رتھ فاو نے انہیں گلے سے لگایا ۔۔ اور ان کے علاج معالجے  کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا۔ڈاکٹر روتھ فاو   کی  مثالی زندگی میں  کئی سبق پوشیدہ   ہیں ۔ جنہیں  جا ن  کر۔۔ اور اپناکر ہم بھی دکھی انسانیت کی خدمت میںاپنا کچھ نہ کچھ حصہ ڈال سکتے ہیں