عید کے موقع پر اپنوں کا ساتھ میسر ہو تو خوشیاں دوبالا ہو جاتی ہیں مگر ملک کی سرحدی حدود کی نگرانی پر مامور پر فورسز کے جوان عید کا تہوار بھی اپنے فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے گذار دیتے ہیں۔ ملک کی حفاظت کے لئے اگلی صفوں پر مورچہ زن جوان کس طرح عید گذارتے ہیں۔
عید، خوشیوں سے بھرا وہ تہوار ہے جس کا انتظارپورا سال رہتا ہے، مگر ملک کے دفاع کی اہم اور حساس ترین ذمہ داری نبھانے پر مامور سیکیورٹی فورسز کے جوان عید کی خوشیاں بھی وطن کی حفاظت کی خاطر قربان کردیتے ہیں۔
سندھ رینجرز کے بہادر جوان بھی مادر وطن کی جغرافیائی سرحدوں کی نگہبانی کئی دہائیوں سے احسن انداز سے کررہے ہیں۔
عید کے موقع پر بارڈر پر واقع سندھ رینجرز کے ونگ میں صبح نماز عید ادا کی جاتی ہے
افسران و جوان آپس میں بغلگیر ہوکر ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں ، جوانوں کا منہ میٹھا بھی کرایا جاتا ہے
عید کے دن بھی سبز ہلالی پرچم کو سلامی دے کر آخری سانس تک ملک کی حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے
مادر وطن کی حفاظت کو اپنی خوشیوں پر ترجیح دینے والے سندھ رینجرز کے افسران اور جوان کہتے ہیں وطن سلامت رہے ،عیدیں ہزار آئیں گی۔
فرصت کے لمحات میسر آتے ہی بارڈر پر عید منا تے جوان مختلف کھیل کود کی سرگرمیوں میں مشغول ہوجاتے ہیں
سرحد پر قائم چیک پوسٹوں پر دشمن کے خلاف سینہ سپر جوانوں کا عزم و حوصلہ چٹان کی مانند نظر آتا ہے۔ افسران کہتے ہیں ملکی حفاظت کا مشن ہر چیز پر مقدم ہے
کراچی کی مصروف ترین زندگی سے تھر کے تپتے بیابان صحرا تک سندھ رینجرز کے جوانوں کی عید بھی مختلف محاذ پر پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں گزر جاتی ہے۔
فرض کی خاطر عید کی خوشیاں بھی قربان کرکے وطن کی حفاظت کا عظیم فریضہ انجام دینے والے رینجرز کے جوان پوری قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں اور قوم کو اپنے بہادر سپوتوں پر فخر ہے۔