کورنگی کریک میں بورنگ کی کھداٸی کے دوران گیس لیکج کے بعد بھڑکنے والی آگ 18روز بعد اچانک بجھ گٸی, آگ بجھنے کے بعد علاقے میں گیس کی بو پھیل گٸی
کراچی کے علاقے کورنگی کریک میں اٹھارہ روز تک بھڑکتی رہنے والی پراسرار آگ آخرکار خودبخود بجھ گئی، لیکن اس آگ کے پیچھے چھپے راز اب بھی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ذرائع کادعوٰی ہےکہ آگ رات 3 بجے کے قریب بجھی
29 مارچ کو کورنگی کریک کے مقام پر اچانک لگنے والی آگ نے نہ صرف مقامی باشندوں کو تشویش میں مبتلا کیا بلکہ ملکی اداروں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ فائر بریگیڈ کی کئی کوششوں کے باوجود یہ آگ پانی سے بجھائی نہیں جا سکی۔ فائر حکام نے ابتدائی طور پر ہی واضح کر دیا تھا کہ یہ عام آگ نہیں، اور نہ ہی اسے روایتی طریقوں سے بجھایا جا سکتا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سندھ حکومت نے فوری طور پر اس واقعے کو "ایمرجنسی" قرار دیا، اور وزارت توانائی نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی میں او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور پی آر ایل جیسے اداروں کے ماہرین شامل کیے گئے۔
حیران کن طور پر، آگ کی شدت میں اٹھارہ روز کے دوران کوئی کمی نہیں آئی، بلکہ زیرِ زمین گیس کے اخراج اور حرارت کے باعث زمین مزید دھنستی چلی گئی۔
اب بھی وہاں کا پانی شدید ابال کے ساتھ اچھل رہا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی معمولی چنگاری سے دوبارہ آگ بھڑک سکتی ہے۔
حکومت نے بین الاقوامی معاونت کا بھی فیصلہ کیا، اور امریکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے جدید ترین آلات منگوائے جا رہے ہیں۔
اٹھارہ روز تک جلنے والی یہ آگ تو بجھ گئی، لیکن کئی اہم سوالات ابھی بھی باقی ہیں۔ آگ کی اصل وجہ کیا تھی؟ زیرِ زمین گیس کا اخراج کب سے جاری تھا؟ اور کیا یہ علاقہ مستقبل میں دوبارہ خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے؟