اب عشق ایک اسکرول کے فاصلے پر ہے، اور رشتے "آن لائن" اسٹیٹس کی طرح غیر مستقل۔

عمران عمران

اب عشق ایک اسکرول کے فاصلے پر ہے، اور رشتے

❝ اب نہ آنکھیں خالی ہوئیں، نہ جذبات بے آواز — بس اسکرین کے پار سناٹا ہے، اور "ٹائپنگ..." کی ایک جھلک پر دل دھڑکنے لگتا ہے۔

رشتے اب دل سے نہیں، آن لائن اسٹیٹس سے جڑے ہیں

ہم آخری عشق کرنے والے لوگ 

ایک عہد کی کہانی، جو یاد بن کر رہ گئی

کہتے ہیں کہ ہر نسل اپنے دور کے عشق کو سب سے سچا سمجھتی ہے۔ لیکن ہم؟ ہم واقعی آخری نسل ہیں جس نے عشق کو صرف محسوس نہیں کیا—اسے جیا۔ ہم نے انتظار کیا، خط لکھے، آنکھوں میں امید سجائے برسوں کسی کے لوٹ آنے کی دعا کی۔ ہر لفظ، ہر لمحہ، ہر لمس ایک دیوانگی کے سفر کی مانند تھا۔

ہم وہ لوگ تھے جو گھنٹوں قلم تھام کر سوچا کرتے تھے کہ دل کی باتوں کو کس قرینے سے قرطاس پر اتاریں۔ ہم نے اپنی چاہت کو خوشبو دار لفافوں میں بند کر کے ڈاک کے حوالے کیا، اور ہفتوں اس ایک جواب کے لیے جیا۔ موبائل فون کی "Seen" کے بجائے، ہم نے ڈاکیے کے قدموں میں امید سنی۔

پھر وقت بدلا۔ چہروں پر فلٹر آ گئے، اور جذبات پر بھی۔ اب عشق ایک اسکرول کے فاصلے پر ہے، اور رشتے "آن لائن" اسٹیٹس کی طرح غیر مستقل۔

وقت بدلا، انداز بدلے، مگر شاید جذبات کی گہرائی کہیں پیچھے رہ گئی۔

کہا جاتا تھا کہ آنکھیں سب کچھ کہہ دیتی ہیں—اب "ٹائپنگ..." نظر آئے تو بھی دل دھڑکتا ہے، اور سینڈ ہوتے ہی خاموشی چھا جاتی ہے۔

رشتے جن میں کبھی خاموشی بھی گفتگو بن جاتی تھی، اب نوٹیفکیشن کا انتظار کرتے ہیں۔ پہلے جذبات کا اظہار خطوط میں ہوتا تھا، سطروں کے بیچ خوشبو ہوتی تھی۔ اب ایموجیز میں لپٹے لفظ صرف عادت بن کر رہ گئے ہیں، محبت نہیں۔

آن لائن رہنے کا مطلب ہمیشہ دل سے ساتھ ہونا نہیں، اور "آف لائن" ہو جانا اکثر بچھڑ جانے کی پہلی نشانی ہوتی ہے۔

فلٹرز نے نہ صرف چہرے بدلے، بلکہ سچائی بھی ڈھانپ دی۔ ہر پوسٹ، ہر اسٹیٹس میں سب خوش لگتے ہیں، لیکن اسکرین کے دوسری طرف تنہائیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

میرےذہن میں دردناک سوال اٹھتا ہے: کیا ہم نے محبت کو بھی Wi-Fi سگنل کی طاقت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے؟

ہم وہ لوگ تھے جو رشتوں کی گہرائی کو خون کے رشتے سے بھی بڑھ کر سمجھتے تھے۔ جنہوں نے بچوں کی پہلی ہنسی سے لے کر بڑوں کی آخری دعا تک سب کچھ محسوس کیا، سمیٹا، سنبھالا۔ اب نئی دنیا ہے، مصنوعی ذہانت کا عہد، جہاں جذبات بھی خودکار ہو چکے ہیں۔

مگر ہم؟ ہم کسی کے غم میں جئے، وہ شخص شاید ہمارے ساتھ نہ تھا، مگر ہمارا دل ہمیشہ اُس کے ساتھ رہا۔