کراچی:
کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ نوبیاہتا دلہن، شانتی، جو مبینہ طور پر اپنے شوہر کے ہاتھوں بدترین جنسی تشدد کا شکار ہوئی، بالآخر زندگی کی جنگ ہار گئی۔ معصوم شانتی، جو زندگی کے نئے سفر پر نکلی تھی، صرف چند دنوں میں ہی ایسی اذیت ناک راہوں پر دھکیل دی گئی جہاں سے واپسی ممکن نہ تھی۔
سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں زیر علاج رہنے والی شانتی 23 جولائی کی صبح 10 بج کر 45 منٹ پر اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں واضح شواہد ملے کہ شانتی کو نہ صرف جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اس پر بہیمانہ غیر فطری طریقے سے تشدد کیا گیا، جس نے اس کے جسم اور روح دونوں کو چکناچور کر دیا۔
شانتی کی شادی 15 جون کو اشوک نامی شخص سے ہوئی تھی، جس نے محض دو دن بعد اسے ایسی اذیت سے دوچار کیا جو انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق، اشوک نے شانتی کے نازک اعضا میں مبینہ طور پر آہنی پائپ ڈال کر وحشت کی وہ حد پار کی جس کا تصور بھی روح کو لرزا دیتا ہے۔
شانتی کے بھائی سیّوں چانگو، جنہوں نے اپنی بہن کو مرتے دیکھا، 5 جولائی کو انصاف کی دہائی لے کر تھانے پہنچے، اور پولیس نے اشوک کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 376 بی اور 324 کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا قانون کی گرفت اس ظلم کا مداوا کر سکے گی؟
شانتی کو 7 جولائی کو کوما کی حالت میں اسپتال لایا گیا تھا، جہاں وہ تقریباً دو ہفتے بے ہوش رہیں، ایک ایک سانس موت سے جنگ کرتی رہی، لیکن آخر کار وہ ہار گئیں۔
شانتی نہ صرف ایک بیٹی تھی، ایک بہن تھی، بلکہ وہ ایک انسان تھی — جس کا حق تھا کہ وہ محبت، تحفظ اور عزت کے ساتھ جیتی۔ لیکن ہمارے معاشرے کی خاموشی، بے حسی اور پدرسری نظام نے اسے صرف 19 برس کی عمر میں قبر کے حوالے کر دیا۔
اب وقت ہے کہ ہم صرف دکھ کا اظہار نہ کریں، بلکہ اس نظام کو بدلنے کی جدو جہد کریں جہاں ایک نئی نویلی دلہن کو سہاگ رات کے بعد اسپتال لے جانا پڑے — اور پھر وہاں سے قبرستان۔