میں بھی ہندو ہوں، میں بھی ایک لڑکی ہوں۔
ہر دن یہ سوچ کر گزرتا ہے کہ اگر میری شادی ہوئی، تو کیا وہ رات، جو ایک نیا آغاز ہونی چاہیے، میری زندگی کی آخری اذیت بن جائے گی؟
شانتی کی کہانی اب صرف ایک خبر نہیں رہی، بلکہ میرے دل میں ایک مستقل زخم بن گئی ہے۔ ایک ایسا خوف، جو میری نیندوں میں اتر آیا ہے، ایک ایسا سوال، جو میرے وجود کو جھنجھوڑتا ہے: آخر کب تک؟
شانتی، جو لیاری کی تنگ گلیوں سے ایک نئی زندگی کا خواب آنکھوں میں سجائے نکلی تھی، اس کی سہاگ رات قبر کی دہلیز بن گئی۔ وہ 19 سال کی تھی۔ ہنستی تھی، باتیں کرتی تھی، شاید اپنی شادی کے خواب بچپن سے بنتی ہو۔ لیکن وہ خواب ایک بھیانک حقیقت میں بدل گئے۔ ایسا ظلم کہ لفظ بھی شرمندہ ہیں، کاغذ بھی لرزتا ہے، اور روح تڑپ اٹھتی ہے۔
وہ صرف ایک لڑکی نہیں تھی، وہ ایک مکمل انسان تھی۔ اس کے جذبات تھے، امنگیں تھیں، معصوم تمنائیں تھیں۔ لیکن پدرسری سوچ، مذہبی و معاشرتی خاموشی، اور انصاف کے بے جان نظام نے اسے محض دو دن میں گوشت کا ایک لوتھڑا بنا دیا۔
اشوک، اس کا شوہر — جسے اس کا محافظ ہونا چاہیے تھا، اس نے اسے ایسا زخمی کیا کہ اسپتال بھی تڑپ اٹھا۔
آہنی پائپ؟ غیر فطری تشدد؟ یہ الفاظ پڑھنا آسان ہے، لیکن سوچنا؟ محسوس کرنا؟ وہ تو دل کو تھامنے کا بھی حوصلہ نہیں دیتے۔
میں سوچتی ہوں، اگر شانتی مسلمان ہوتی تو کیا کچھ بدل جاتا؟ یا اگر میں شانتی کی جگہ ہوتی تو؟
کیا مذہب، ذات، یا فرقہ اس درد کو کم کر سکتا ہے؟
نہیں — ظلم صرف ظلم ہوتا ہے۔
اور عورت ہمیشہ اس ظلم کا پہلا نشانہ۔
میں روز اس خوف کے ساتھ جیتی ہوں کہ میں کسی کی بیٹی ہوں، کسی کی بہن، اور ایک دن کسی کی بیوی بنوں گی — مگر کیا کبھی میں کسی کی ذمہ داری، عزت اور محبت بن پاؤں گی؟
یا صرف ایک جسم بن کر رہ جاؤں گی — جس پر طاقت کے نشے میں چور معاشرہ اپنی تسلط کی مہر ثبت کرے گا؟
شانتی کی موت ایک حادثہ نہیں — یہ ایک صدیوں پرانی کہانی کی تازہ قسط ہے۔
اس کہانی میں ہر دن کوئی نہ کوئی شانتی خاموش ہو جاتی ہے، کوئی گڑیا جل جاتی ہے، کوئی لاش چھپائی جاتی ہے، اور پھر ہم سب اگلی خبر کا انتظار کرتے ہیں۔
خاموش، بے حس، اور معذرت خواہ۔
مگر اب بہت ہو چکا۔
اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی، اگر آج ہم نے شانتی کو صرف ایک خبر سمجھ کر بھلا دیا — تو کل کوئی اور لڑکی، شاید میں، شاید آپ — اس خاموشی کی قیمت چکائے گی۔
ہمیں ایک ایسا نظام چاہیے جہاں شادی خوشی ہو، اذیت نہیں۔
جہاں عورت کا جسم صرف "ذمہ داری" نہ ہو، بلکہ "احترام" ہو۔
جہاں بیٹیاں صرف جنا نہ جائیں، بلکہ جینے دی جائیں۔
شانتی اب نہیں رہی،
مگر اس کی چیخیں اس زمین پر گونجتی رہیں گی —
جب تک ہم جاگ نہ جائیں۔
جب تک ہم بول نہ پڑیں۔
جب تک ہم بدل نہ ڈالیں۔
شانتی کے لیے، ہم سب کو شانتی بننا ہوگا۔