"لبوبو: ننھی سی گڑیا یا پراسرار کھلونا؟ سوشل میڈی پر وائرل ہونے والی نئی کہانیاں

رباب ابراہیم رباب ابراہیم


سوشل میڈیا کے اس دور میں، جہاں کوئی بھی چیز لمحوں میں وائرل ہو سکتی ہے، وہاں ایک ننھی سی گڑیا نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ اس کا نام ہے لابوبو۔ ایک انوکھی مسکراہٹ، منفرد چہرہ، اور دلکش ڈیزائن رکھنے والی یہ گڑیا، ابتدا میں ایشیائی مارکیٹوں میں متعارف ہوئی، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگی۔ لیکن جس تیزی سے یہ گڑیا دلوں کو جیتتی گئی، اسی رفتار سے خوف، شکوک اور افواہوں کی دھند نے بھی اسے گھیرا، اور اس کے اردگرد "چکی" اور "اینابیل" جیسی ہالی ووڈ کی ہارر گڑیوں کے سائے منڈلانے لگے۔


لابو بو درحقیقت ایک جاپانی فنکار کینٹارو ہیرائی کی تخلیق ہے۔ اس گڑیا کو سب سے پہلے چین کی ایک مشہور کھلونا ساز کمپنی نے متعارف کروایا، جس کا نام پاپ مارٹ ہے۔ یہ کمپنی اپنے خاص کاروباری ماڈل کی وجہ سے مشہور ہوئی، جسے "بلائنڈ باکس" کہا جاتا ہے۔ اس ماڈل کے تحت صارف کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ باکس میں کون سی مخصوص گڑیا موجود ہے، جب تک وہ اسے کھول نہ لے۔ اسی تجسس اور حیرت نے خریداروں کو مسلسل خریداری کی طرف مائل کیا۔ لابوبو کے کئی ایڈیشنز نایاب تھے، اور یہی نایابی اس کی قیمت اور قدر میں اضافے کا باعث بنی۔ لابوبو ایک وقت میں صرف ایک کھلونا نہیں رہی بلکہ فیشن، سماجی حیثیت اور بعض افراد کے لیے سرمایہ کاری کی علامت بن گئی۔


چین، جاپان، کوریا، سنگاپور اور تھائی لینڈ جیسے ممالک میں لابوبوکے شوقین خریدار طویل قطاروں میں کھڑے دکھائی دیے۔ انسٹاگرام، ٹک ٹاک، ویبو اور لٹل ریڈ بک جیسی ویب سائٹس پر لابوبو کی ان باکسنگ ویڈیوز، کلیکشن شو کیسز اور دلچسپ پوسٹس کی بھرمار نے اسے ڈیجیٹل دنیا کا محبوب موضوع بنا دیا۔ یورپ میں بھی اس کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی جیسے ممالک میں کلیکٹیبل کھلونوں کی پہلے سے موجود روایت نے لابوبوکو تیزی سے مقبولیت دلائی۔ انفلوئنسرز، یوٹیوبرز اور کلیکٹرز نے اس گڑیا کو اپنی پوسٹس کا مستقل حصہ بنا لیا۔


لیکن جیسے جیسے لابوبو ہر دلعزیز ہوتی گئی، ویسے ویسے اس کے بارے میں پراسرار کہانیاں، خوفناک خدشات، اور عجیب و غریب افواہیں بھی جنم لینے لگیں۔ اس کی شیطانی مسکراہٹ، غیر معمولی ڈیزائن اور بعض اوقات تھوڑا سا خوفناک انداز رکھنے والے ایڈیشنز کو چکی اور اینابیل جیسی مشہور ہارر گڑیوں سے جوڑا جانے لگا۔ چکی، فلم 'چائلڈز پلے' کا ایک ایسا کردار ہے جس میں قاتل کی روح قید ہوتی ہے، جبکہ اینابیل، 'کونجورنگ یونیورس' کی وہ گڑیا ہے جو شیطانی طاقتوں سے بھرپور مانی جاتی ہے۔ گو کہ لابوبو کی اصل پہچان ایک معصوم اور فنکارانہ کھلونا ہے، لیکن اس کی ظاہری ساخت نے کچھ حلقوں کو پریشان کر دیا۔


جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں، جہاں روحوں اور مافوق الفطرت عقائد کی جڑیں گہری ہیں، وہاں اس گڑیا کو بدروحوں سے منسلک کرنے کی کوشش کی گئی۔ کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ لابوبو رکھنے کے بعد ان کی زندگی میں منفی تبدیلیاں آئیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز میں لوگوں نے اپنے غیر معمولی تجربات شیئر کیے، جن میں انہیں لابوبو سے وابستہ خوفناک احساسات کی بات کرتے سنا گیا۔ یورپ کے قدامت پسند حلقوں میں بھی بعض مذہبی گروہوں نے لابوبوکے ڈیزائن میں شیطانی علامات تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بڑے کانوں کو 'شیطان کے کان' کہا گیا اور لباس پر موجود پیٹرن کو خفیہ پیغامات سے جوڑا گیا۔ اگرچہ یہ سب قیاس آرائیاں تھیں، لیکن کچھ طبقوں میں ان کا اثر ضرور دیکھا گیا

۔

سوالات صرف روحانی یا علامتی سطح تک محدود نہ رہے۔ کئی والدین اور ماہرین نفسیات نے 'بلائنڈ باکس' کے تصور پر بھی سوالات اٹھائے۔ کہا گیا کہ یہ ماڈل جوئے کے رجحان کو فروغ دیتا ہے، جہاں خریدار مسلسل نایاب گڑیا کی تلاش میں پیسے ضائع کرتے ہیں۔ بعض نوجوان جب اپنی من پسند گڑیا حاصل نہ کر پاتے تو انہیں مایوسی، غصہ، حتیٰ کہ ڈپریشن کا سامنا بھی کرنا پڑتا۔

لابوبوکی غیر معمولی مقبولیت نے جعلی مصنوعات کے دھندے کو بھی جنم دیا۔ ایشیا اور یورپ میں نقلی لابوبوگڑیاں مارکیٹ میں آ گئیں، جن کا معیار ناقص تھا۔ اصل اور نایاب ایڈیشنز کی بلیک مارکیٹنگ نے خریداروں کو مالی نقصان پہنچایا اور برانڈ پر اعتماد کو نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ، کئی ناقدین نے یہ بھی کہا کہ لابوبو جیسی مصنوعات صارفیت پسندی کو فروغ دیتی ہیں، جہاں لوگ صرف دکھاوے یا رجحان کی خاطر چیزیں خریدتے ہیں، چاہے ان کی حقیقی ضرورت نہ ہو۔

ان تمام خدشات، افواہوں اور تنقید کے باوجود، لابوبو کی مقبولیت میں کوئی کمی نہ آئی۔ پاپ مارٹ نے نئے ڈیزائنز، کلیکشنز اور تھیمز متعارف کراتے ہوئے صارفین کی توجہ برقرار رکھی۔ کینٹارو ہیرائی نے بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھار کر نئے فن پارے پیش کیے۔

یہ سب کچھ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ جب کوئی چیز سوشل میڈیا اور پاپ کلچر کے امتزاج سے عالمی سطح پر مقبول ہو جائے، تو افواہیں، خدشات، اور مخالفتیں بھی اسے روک نہیں سکتیں۔ لابوبو صرف ایک کھلونا نہیں رہی بلکہ وہ 21ویں صدی کے صارفین کے کلچر، سوشل میڈیا کی طاقت، اور انسان کی نفسیاتی پیچیدگیوں کی علامت بن گئی ہے۔

یہ کہانی صرف ایک گڑیا کی نہیں، بلکہ اس معاشرے کی ہے جو خوبصورتی اور خوف، حقیقت اور فینٹسی، عقیدے اور منطق کے درمیان مسلسل جھولتا رہتا ہے۔ لابوبو اس تمام بحث و گفتگو کے بیچ ایک خاموش، مسکراتی گڑیا کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے — جو کسی کے لیے خوشی کا سامان ہے، اور کسی کے لیے سوالوں کی ایک گٹھڑی۔