ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا ملک بھر میں سنگل یوز پلاسٹک پر مکمل پابندی کا مطالبہ
کراچی،
ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے 280 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ معیشت، انفراسٹرکچر اور قدرتی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس صورتحال میں شہروں میں بہتے پلاسٹک اور ناقص ویسٹ مینجمنٹ نے سیلابی حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ بات ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے پلاسٹک فری جولائی مہم کے دوران جاری اپنے بیان میں کہی۔ ادارے نے ملک بھر میں "سنگل یوز پلاسٹک" کی پیداوار اور استعمال پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا۔
ترجمان کے مطابق شہروں میں بہنے والا پلاسٹک نالوں کو بند کر دیتا ہے، جس سے پانی کی نکاسی رکنے اور سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک ویسٹ اس وقت دنیا کے بڑے ماحولیاتی مسائل میں سے ایک ہے۔ معاشی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) کے مطابق 2000 سے 2019 تک دنیا میں پلاسٹک کی سالانہ پیداوار 234 ملین ٹن سے بڑھ کر 460 ملین ٹن تک جا پہنچی ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو یہ نہ صرف انسانی صحت بلکہ ماحولیاتی نظام اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو بھی مزید بڑھا دے گا۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا کہ پلاسٹک نہ صرف حیاتیاتی تنوع کے لیے خطرہ ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پلاسٹک ٹوٹ کر مائیکرو پلاسٹک میں بدل جاتا ہے جو زیرِ زمین پانی، دریاؤں اور مٹی کی زرخیزی کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالائی علاقوں سے دریائے سندھ میں آنے والا پلاسٹک کوٹری بیراج سے ہوتا ہوا بحیرۂ عرب تک پہنچ کر سمندری حیات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مائیکرو پلاسٹکس اب ہوا، پانی اور خوراک کے ذریعے ہمارے روزمرہ کے نظام میں شامل ہو رہے ہیں اور کچھ تحقیق کے مطابق یہ انسانی اعضا اور نومولود بچوں کے جسم کے اندر بھی پائے گئے ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف اداروں اور حکومت کے ساتھ مل کر آگاہی مہمات، ساحلوں کی صفائی اور پلاسٹک ویسٹ کم کرنے کے منصوبے چلا رہا ہے۔ ادارے نے کراچی اور اسلام آباد میں 50 سے زائد خواتین کو تربیت دی ہے جو ری سائیکل نہ ہونے والے پلاسٹک سے مارکیٹ میں فروخت ہونے والی مصنوعات تیار کر کے آمدنی حاصل کر رہی ہیں۔ کراچی کے ساحل پر پلاسٹک ویسٹ کے داخلی مقامات کی نشاندہی کر کے فش ہاربر پر لِٹر بوم لگایا گیا، جس سے اب تک 2500 ٹن کچرا نکالا جا چکا ہے۔
پلاسٹک بینک انیشی ایٹو کے تحت کراچی کی پانچ بڑی جامعات میں پلاسٹک ریکوری بینکس بھی لگائے گئے ہیں جہاں ویسٹ کی علیحدگی اور آگاہی کے لیے خصوصی نظام فراہم کیا گیا ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سنگل یوز پلاسٹک مصنوعات کا استعمال ترک کر کے ماحول دوست متبادل اپنائیں۔
سنگل یوز پلاسٹک سے مراد وہ پلاسٹک مصنوعات ہیں جو صرف ایک بار استعمال کرنے کے بعد پھینک دی جاتی ہیں. جن کا ری سائیکل ہونا بھی مشکل ہوتا ہے