دنیا موسمیاتی بحران کی زد میں، 2025 کی رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

رباب ابراہیم رباب ابراہیم

دنیا موسمیاتی بحران کی زد میں،  2025 کی رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی


پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار، عالمی سطح پر ترقی یافتہ  ممالک بھی زد میں

ایک وقت تھا جب موسم کی شدت کو وقتی قدرتی آفات سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب دنیا کے ہر خطے میں موسم کا بدلتا ہوا مزاج اس بات کا عندیہ دے رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک مسلسل، سنگین اور عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جرمنی کے معتبر ادارے جرمن واچ (Germanwatch e.V.) کی جانب سے شائع کردہ کلائمٹ رسک انڈیکس 2025 کی رپورٹ نے نہ صرف اس بحران کی نوعیت کو بے نقاب کیا ہے بلکہ اس کی زد میں آنے والے ممالک، خاص طور پر پاکستان، کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔

اس رپورٹ میں 1993 سے 2022 تک کی مدت کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح شدید موسم جن میں طوفان، سیلاب، گرمی، خشک سالی اور جنگلات کی آگ شامل ہیں ۔نے لاکھوں انسانی زندگیاں متاثر کیں، قومی معیشتوں کو جھنجھوڑا، اور لاکھوں افراد کو بے گھر کیا۔

رپورٹ کے مطابق ان تیس برسوں میں دنیا بھر میں تقریباً نو ہزار چار سو سے زائد شدید موسمی واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں سات لاکھ پینسٹھ ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔ ان واقعات سے دنیا بھر کو مجموعی طور پر چار ہزار دو سو ارب امریکی ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان پہنچا۔ ان آفات سے سب سے زیادہ وہ ممالک متاثر ہوئے جو یا تو ترقی پذیر ہیں یا وہ قدرتی لحاظ سے حساس علاقے میں واقع ہیں۔

2022 کا سال ان سب میں نمایاں اور خطرناک ترین ثابت ہوا۔ دنیا بھر میں اس ایک سال کے دوران شدید گرمی کی لہر، تباہ کن سیلاب، خوفناک طوفان، اور سنگین خشک سالی کے واقعات رونما ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق صرف اسی سال میں گرمی کی لہر سے اکسٹھ ہزار سات سو بیاسی افراد موت کا شکار بنے، جو پچھلے تمام سالوں کے مقابلے میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہی نہیں، سیلاب سے آٹھ ہزار پچاس اموات ہوئیں جبکہ طوفانوں کی وجہ سے ایک ہزار چھ سو پانچ جانیں ضائع ہوئیں۔ خشک سالی سے دو ہزار چھ سو ایک افراد لقمہ اجل بنے۔ اگر متاثرہ افراد کی بات کی جائے تو سیلاب سے پانچ کروڑ سے زائد، خشک سالی سے دس کروڑ سے زیادہ اور طوفانوں سے ایک کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔ مجموعی معاشی نقصان کی بات کی جائے تو سیلاب سے چھیالیس ارب ڈالر، خشک سالی سے پینتیس ارب ڈالر اور طوفانوں سے ایک سو سینتیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

ایسی صورتحال میں پاکستان کو اس انڈیکس میں دنیا کا سب سے زیادہ متاثر ملک قرار دیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ 2022 میں آنے والا وہ مہلک سیلاب تھا جس نے ملک کا تقریباً دس فیصد حصہ زیرِ آب کر دیا۔ ملک بھر میں تین کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے، سترہ سو سے زائد جانیں ضائع ہوئیں، اور معیشت کو کم از کم پندرہ ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ سیلاب صرف پانی کی تباہی نہیں تھا، بلکہ اس نے پاکستان کی کمزور معاشی اور ماحولیاتی ڈھانچے کو بھی بے نقاب کیا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے، بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا، ہزاروں اسکول اور صحت کے مراکز بند ہو گئے اور غذائی قلت میں خطرناک اضافہ ہوا۔

اسی برس پاکستان میں ایک اور قدرتی آفت نے بھی تباہی مچائی ۔ شدید گرمی کی لہر،مارچ سے مئی تک ملک کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت انچاس ڈگری سیلسیئس تک جا پہنچا۔ یہ درجہ حرارت کئی دہائیوں میں ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ حد تھی۔ یہ گرمی نہ صرف انسانی صحت کے لیے مہلک ثابت ہوئی بلکہ فصلوں کو تباہ کر گئی، پانی کی قلت میں اضافہ ہوا اور بجلی کے نظام پر شدید دباؤ پڑا۔

اس سنگین صورتحال کے باوجود یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کا دنیا کے کل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات کا سامنا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ اسے ماحولیاتی انصاف کا بحران کہا جا سکتا ہے، جہاں کم اخراج کرنے والے ممالک نتائج کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر کے دیگر ممالک کی بھی صورتحال بیان کی گئی ہے۔ 2022 میں متاثرہ دس بڑے ممالک میں حیرت انگیز طور پر سات ترقی یافتہ ممالک شامل تھے۔ ان میں اٹلی، یونان، اسپین، امریکہ، پرتگال، پیورٹو ریکو اور بلغاریہ شامل تھے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو اپنی اقتصادی طاقت، سائنسی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن موسمیاتی شدت کے آگے بے بس نظر آئے۔

مثال کے طور پر اٹلی میں شدید گرمی کی لہر سے اٹھارہ ہزار سے زائد اموات ہوئیں۔ اسپین میں یہ تعداد گیارہ ہزار سے تجاوز کر گئی۔ امریکہ میں سیلاب اور طوفانوں کی وجہ سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، جب کہ پرتگال اور یونان کو جنگلات کی آگ، طوفانوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان تمام واقعات نے ثابت کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کسی ایک خطے یا طبقے کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک عالمی ہنگامی صورت حال ہے جس کا حل بھی عالمی سطح پر اجتماعی کاوشوں سے ہی ممکن ہے۔

رپورٹ میں ایک اور اہم پہلو یہ اٹھایا گیا ہے کہ کم آمدنی والے اور ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی اعداد و شمار کی دستیابی محدود ہے۔ افریقہ کے کئی ممالک میں گرمی کی لہروں اور خشک سالی کے درست اعداد و شمار موجود نہیں، جس کی وجہ سے ان کی متاثرہ حیثیت عالمی سطح پر کمزور دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں بھی ڈیٹا اکٹھا کرنے کا نظام ناکافی ہے، جس کی وجہ سے اموات اور متاثرین کی اصل تعداد کم رپورٹ ہوتی ہے۔

کلائمٹ رسک انڈیکس 2025 میں اس بحران سے نمٹنے کے لیے کئی سفارشات بھی دی گئی ہیں۔ ان میں سب سے اہم سفارش یہ ہے کہ دنیا کو اب موسمیاتی موافقت یعنی "کلائمٹ اڈاپٹیشن" پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ ترقی پذیر ممالک کو مالی و تکنیکی مدد دی جائے تاکہ وہ قدرتی آفات سے بچاؤ کے نظام بہتر بنا سکیں، شہری منصوبہ بندی کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالا جائے، قابل تجدید توانائی کی طرف تیزی سے منتقل ہوا جائے، اور وہ طبقے جنہیں ان اثرات کا سب سے زیادہ سامنا ہے ۔ جیسے خواتین، بچے، بزرگ، اور دیہی آبادی  ، ان کی حفاظت اور فلاح کو یقینی بنایا جائے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ماحولیاتی پروگرام (United Nations Environment Programme) کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہر سال تقریباً تین سو ارب امریکی ڈالر درکار ہوں گے۔ یہ رقم ابھی دستیاب نہیں اور یہ خلیج ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ عالمی موسمیاتی کانفرنسوں میں "نقصان و نقصان" یعنی Loss and Damage فنڈ کے قیام کی بات زور پکڑ رہی ہے، تاکہ متاثرہ ممالک کو فوری اور براہِ راست امداد فراہم کی جا سکے۔


پاکستان کے لیے یہ رپورٹ صرف ایک انتباہ نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ملک بھر میں ماحولیاتی پالیسیوں کو ازسرِ نو ترتیب دیا جائے، تعلیمی نصاب میں ماحولیاتی شعور شامل کیا جائے، مقامی حکومتوں کو اس حوالے سے بااختیار بنایا جائے، اور میڈیا کو ایک ذمہ دار ماحولیاتی ترجمان کا کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا جائے۔


عالمی سفارتی منظرنامے میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس سال برازیل کے مختلف خطوں میں شدید بارشیں، تباہ کن سیلاب اور لاکھوں افراد کی بے دخلی جیسی موسمیاتی آفات رونما ہوئیں، اسی سال برازیل COP30 جیسے اہم بین الاقوامی ماحولیاتی اجلاس کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ 2024 کے دوران برازیل کی ریاست ریو گراندے ڈو سل شدید بارشوں اور طوفانی سیلابوں کی لپیٹ میں آئی، جہاں 90 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، 150,000 سے زائد افراد کو اپنا گھر چھوڑنا پرا، اور معیشت کو دو ارب امریکی ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔ یہ اجلاس  جو اقوام متحدہ کے تحت دنیا بھر کی حکومتوں، ماہرین اور پالیسی سازوں کو اکٹھا کرتا ہے ،اس حقیقت کی علامت ہے کہ اب شدید متاثرہ ممالک بھی صرف متاثر ہونے والوں کی صف میں نہیں، بلکہ ماحولیاتی قیادت کے مرکز میں آ چکے ہیں۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا COP30 میں وہ اقدامات اٹھائے جائیں گے جو برازیل، پاکستان، نائجیریا، اور دیگر متاثرہ ممالک جیسے خطوں کو مستقبل میں ان بحرانوں سے بچا سکیں گے، یا یہ ایک اور وعدوں کا پلندہ بن کر رہ جائے گا؟


آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ موسم کی یہ شدت اب معمول بنتی جا رہی ہے۔ جو چیز کل تک غیر معمولی تھی، وہ آج کی حقیقت ہے۔


کلائمٹ رسک انڈیکس 2025 ایک آئینہ ہے ۔ اس میں وہ مستقبل دکھایا گیا ہے جو اگرچہ خوفناک ہے، لیکن وقت پر اقدامات کیے جائیں تو اس سے بچا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور دنیا کو اب فیصلے کرنے ہوں گے، اور تاخیر مزید انسانی المیوں کو جنم دے گی۔