امریکی صدر ٹرمپ اور یورپی رہنماؤں کا ورچوئل اجلاس مکمل، یوکرین جنگ بندی پر زور

عمران عمران

امریکی صدر ٹرمپ اور یورپی رہنماؤں کا ورچوئل اجلاس مکمل، یوکرین جنگ بندی پر زور


واشنگٹن/برسلز — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی رہنماؤں کے درمیان ورچوئل اجلاس میں روس-یوکرین جنگ کے خاتمے اور علاقائی سلامتی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے مطابق صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ یوکرین میں جنگ بندی چاہتے ہیں اور کسی بھی علاقائی مسئلے پر یوکرین کے ساتھ براہ راست مذاکرات ممکن ہیں۔

میکرون نے کہا کہ الاسکا میں جمعے کو ہونے والی ملاقات میں صدر ٹرمپ کی کامیابی کے خواہاں ہیں، تاہم یوکرین اور روس کے درمیان علاقائی تبادلے پر کوئی سنجیدہ بات چیت نہیں ہوئی۔ انہوں نے روس پر نئی پابندیوں کے امکان کو بھی رد نہیں کیا۔

جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا کہ الاسکا ملاقات میں یورپی اور یوکرینی سیکیورٹی مفادات کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے میں جنگ بندی اولین شرط ہونی چاہیے اور روسی زیر قبضہ علاقوں کو قانونی طور پر تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اس مؤقف سے بڑی حد تک متفق ہیں۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں اور امریکا، روس، یوکرین کے درمیان سہ فریقی ملاقات ضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ الاسکا ملاقات میں جنگ بندی اولین ترجیح ہوگی اور روس پر مزید پابندیاں لگائی جائیں گی۔

یورپی یونین نے اجلاس کو مثبت قرار دیا، جبکہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ یوکرین کے خلاف اس خوفناک جنگ کے خاتمے کے لیے تمام اتحادی متحد ہیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی قیادت اور قریبی تعاون کو سراہا اور کہا کہ اب گیند صدر پیوٹن کے کورٹ میں ہے۔

فرانسیسی صدر میکرون نے سہ فریقی ملاقات کی تجویز دی جو ممکنہ طور پر یورپ میں ہو سکتی ہے۔ اجلاس کے اختتام پر تمام رہنماؤں نے یوکرین میں امن کی امید کا اظہار کیا۔