سپریم کورٹ نے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے سدباب کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر زور دیا
اسلام آباد — سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم تحریری فیصلے میں عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے استعمال کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک نے 14 سال پرانے نیلامی کیس میں فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ انصاف میں تاخیر نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے بلکہ قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی ساکھ کو بھی کمزور کرتی ہے۔
عدالت نے زور دیا کہ عدلیہ کو فوری طور پر جدید، جوابدہ اور سمارٹ کیس مینجمنٹ نظام کی طرف منتقل ہونا ہوگا، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی ہو۔ یہ اقدام نہ صرف مقدمات کی بروقت سماعت کو یقینی بنائے گا بلکہ عدالتی نظام کو شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنانے میں مددگار ہوگا۔
یہ فیصلہ ایک آئینی اور ادارہ جاتی پالیسی کے طور پر سامنے آیا ہے، جو مستقبل میں عدالتی اصلاحات کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔