سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس، میڈیکل تعلیم، فیسوں اور ادویات کی قیمتوں پر تفصیلی بریفنگ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین عامر محی الدین چشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) کے حکام نے کمیٹی کو کونسل کی کارکردگی اور موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں اس وقت 187 میڈیکل اور ڈینٹل کالجز فعال ہیں، جن میں 22 ہزار طلبا کی گنجائش موجود ہے۔ ہر سال تقریباً 5 ہزار میڈیکل گریجویٹس بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں، جس سے ملک میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا ہے۔
ایم ڈی کیٹ امتحانات کے پیپرز لیک ہونے کی شکایات پر وفاقی وزیر صحت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ شکایات کے ازالے کے لیے اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ اس سال پہلی بار طلبا کو تین پیپر آپشنز دیے جائیں گے، تاکہ اگر پہلا پیپر لیک ہو جائے تو دوسرا یا تیسرا استعمال کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پی ایم اینڈ ڈی سی کی ایگزیکٹو کونسل 15 ارکان پر مشتمل ہے، جس میں وفاقی اور چاروں صوبائی سیکریٹریز شامل ہیں۔ کونسل ملک میں میڈیکل تعلیم اور تربیت کو ریگولیٹ کرتی ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے فیسوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو فیس ریفنڈ ہو رہی ہے اور نہ ہی کمی پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ اسلام آباد کے کسی میڈیکل کالج میں فیس میں کمی نہیں کی گئی۔ صدر پی ایم اینڈ ڈی سی نے بتایا کہ کالجز سے آڈٹ رپورٹس طلب کی گئی ہیں اور تین نوٹسز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ وزیر صحت نے یقین دہانی کرائی کہ فیسوں کی سروے رپورٹ تیار کرکے کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔
دوسری جانب، سی ای او ڈریپ عبیداللہ نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 190 اقسام کی ادویات میں اضافے کا سروے جاری ہے، جس کی رپورٹ ستمبر میں پیش کی جائے گی۔