ہیٹ ویوز کا شکنجہ- شہروں کا بدلتا موسم اور ورلڈ بینک کی وارننگ

رباب ابراہیم رباب ابراہیم

ہیٹ ویوز کا شکنجہ- شہروں کا بدلتا موسم اور ورلڈ بینک کی وارننگ


 یورپ و وسطی ایشیا کے شہروں کا گرم مستقبل

یورپ اور وسطی ایشیا کے شہر ایک ایسے بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں جو انسانی تاریخ میں پہلی بار اس شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ “Unlivable: How Cities in Europe and Central Asia Can Survive and Thrive in a Hotter Future” خبردار کرتی ہے کہ اگر آج سے فوری اور جامع اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ خطہ ایک ایسے گرم مستقبل کا سامنا کرے گا جہاں زندگی بسر کرنا دشوار ہو جائے گا۔

یہ وہ خطہ ہے جو کبھی سردیوں کی لمبی راتوں، برف پوش پہاڑوں اور معتدل موسموں کی وجہ سے جانا جاتا تھا، لیکن اب موسم کا توازن بگڑ چکا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں یہاں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اور یہ اضافہ عالمی اوسط سے دوگنا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق یورپ اس وقت دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا خطہ ہے۔ موسم گرما میں وہ ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں جو پہلے کبھی ممکن نہ سمجھے جاتے تھے۔

بڑھتی ہوئی ہیٹ ویوز – خاموش قاتل
گرمی کی شدید لہریں (Heatwaves) اب غیر معمولی نہیں رہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2100 (اکیسویں صدی کا آخری سال) تک خطے کے دو تہائی شہروں میں ہر سال کم از کم ایک شدید ہیٹ ویو آئے گی، اور ایک تہائی شہروں میں یہ لہریں اتنی طویل ہوں گی کہ کئی ہفتوں تک جاری رہیں گی۔ اس دوران درجہ حرارت موجودہ اوسط سے 4 ڈگری زیادہ تک جا سکتا ہے۔ یہ اضافہ معمولی نہیں، کیونکہ انسانی جسم اور بنیادی ڈھانچہ اس درجہ حرارت کو برداشت کرنے کے قابل نہیں۔

گرمی کی یہ لہریں اکثر خبروں میں زیادہ جگہ نہیں پاتیں، لیکن یہ خاموشی سے انسانی جانیں لیتی ہیں۔ یورپ میں گزشتہ بیس برسوں کے دوران ہزاروں افراد صرف شدید گرمی کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سردی کے مقابلے میں گرمی زیادہ اموات کا سبب بن رہی ہے، حالانکہ اس خطے کو ہمیشہ سخت سردیوں کے حوالے سے پہچانا جاتا رہا ہے۔

شہری زندگی پر اثرات
شہر وہ مقامات ہیں جہاں آبادی کا ارتکاز سب سے زیادہ ہے۔ عمارتیں، سڑکیں اور پارکنگ لاٹس دن بھر سورج کی روشنی جذب کر کے رات تک اسے واپس خارج کرتی ہیں۔ اس رجحان کو "اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ" کہا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شہروں میں درجہ حرارت قریبی دیہات یا مضافات کے مقابلے میں کئی ڈگری زیادہ رہتا ہے۔

البانیا کے دارالحکومت تیرانا میں حالیہ ایک تجربے نے یہ حقیقت مزید واضح کی۔ ماہرین نے شہر کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت ریکارڈ کیا تو معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ اور سب سے کم درجہ حرارت والے علاقوں میں فرق 6.4°C تک تھا۔ سبزہ اور درختوں والے علاقے نسبتاً ٹھنڈے تھے، جبکہ بلند عمارتوں اور پختہ ڈھانچوں والے علاقے دہکتے تنور کی طرح گرم تھے۔
یہ فرق صرف سائنس کا موضوع نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ وہ خاندان جو غریب بستیوں میں رہتے ہیں، ایئر کنڈیشنر یا بہتر وینٹیلیشن سے محروم ہیں۔ ان کے لیے رات کا وقت بھی سکون کا باعث نہیں ہوتا، کیونکہ ان کے گھروں کی دیواریں دن بھر کی گرمی کو جذب کر کے دیر تک گرم رہتی ہیں۔

معیشت پر دباؤ
گرمی کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترکی، یونان، بلغاریہ، قبرص اور وسطی ایشیا کے کئی ممالک مستقبل میں 2 سے 6 فیصد تک GDP کے نقصان کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یہ کمی معمولی نہیں، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری ضائع ہوگی اور روزگار کے مواقع سکڑ جائیں گے۔
شدید گرمی کے دوران مزدور زیادہ دیر تک کام نہیں کر پاتے۔ کھلے آسمان تلے کام کرنے والے، جیسے تعمیراتی مزدور یا کھیتوں میں کام کرنے والے کسان، سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی مزدور تنظیم (ILO) کا کہنا ہے کہ 2030 تک دنیا بھر میں گرمی کی وجہ سے مجموعی طور پر سالانہ کام کے اوقات کا 2 فیصد ضائع ہو سکتا ہے۔ یورپ اور وسطی ایشیا کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہوگا کیونکہ ان کی معیشتوں کا بڑا حصہ محنت کش طبقے پر انحصار کرتا ہے۔
جب مزدور سست ہو جاتے ہیں یا اپنی حفاظت کے لیے کام چھوڑ دیتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر پیداوار پر پڑتا ہے۔ زراعت، تعمیرات، سیاحت اور دیگر شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبے بھی دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ زیادہ گرمی کے دوران بجلی کی کھپت بڑھ جاتی ہے کیونکہ لوگ ٹھنڈک کے ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ اس دباؤ سے کئی ملکوں میں بجلی کے بلیک آؤٹ بھی معمول بنتے جا رہے ہیں۔

صحت عامہ کے مسائل
گرمی صرف معیشت نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جیسے ہی درجہ حرارت بڑھتا ہے، دل کے امراض، سانس کی بیماریوں اور گردے کی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ کئی تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ذہنی صحت پر بھی گرمی کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔ لوگ زیادہ چڑچڑے ہو جاتے ہیں، ڈپریشن اور اضطراب بڑھ جاتا ہے، اور پرتشدد رویے بھی زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔

استنبول میں کی گئی ایک تحقیق سے پتا چلا کہ جب درجہ حرارت 27°C سے بڑھتا ہے تو موت کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔ حاملہ خواتین پر گرمی کے اثرات اور بھی پیچیدہ ہیں، کیونکہ شدید گرمی قبل از وقت پیدائش یا کم وزن کے بچوں کا سبب بن سکتی ہے۔

ہسپتالوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ شدید گرمی کے دنوں میں ایمرجنسی وارڈ مریضوں سے بھر جاتے ہیں، جبکہ ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیے بھی اس ماحول میں کام کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اکثر اسپتالوں کے پاس کولنگ سسٹمز ناکافی ہوتے ہیں، جس سے نہ صرف مریض بلکہ عملہ بھی متاثر ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ گرمی سب کو متاثر کرتی ہے، لیکن سب پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوتے۔ بزرگ، بچے، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ اسی طرح وہ مزدور جو دن بھر باہر کام کرتے ہیں، خاص طور پر تعمیرات، ٹریفک کنٹرول اور زراعت میں کام کرنے والے، براہِ راست گرمی کا نشانہ بنتے ہیں۔

غربت بھی ایک بڑا عنصر ہے۔ غریب خاندانوں کے پاس بہتر رہائش نہیں ہوتی، نہ ہی وہ ٹھنڈک فراہم کرنے والے آلات خرید سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ زیادہ دیر تک گرمی برداشت کرتے ہیں، اور ان کے لیے صحت کے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

یہ حقیقت کسی بھی شہر کے سماجی نقشے پر نظر ڈالنے سے واضح ہو جاتی ہے۔ وہ علاقے جہاں درخت کم ہیں اور رہائش ناقص ہے، سب سے زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایسے میں سماجی اور معاشی ناہمواری مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ امیر اور غریب کے درمیان صرف آمدنی کا فرق نہیں بلکہ زندہ رہنے کے مواقع کا بھی فرق بڑھ جاتا ہے۔

رپورٹ کے پہلے حصے میں ہم نے دیکھا کہ شدید گرمی کس طرح یورپ اور وسطی ایشیا کے شہروں کی زندگی، معیشت اور صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان خطرات کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ عالمی بینک کی رپورٹ “Unlivable” نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ ایسے حل بھی تجویز کرتی ہے جو شہروں کو مزید تابناک اور محفوظ بنا سکتے ہیں۔

موجودہ اقدامات اور ان کی خامیاں
خطے کے زیادہ تر ممالک نے ہیٹ ویوز کے لیے وارننگ سسٹمز تو بنا رکھے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 87 فیصد ممالک میں ہیٹ الرٹ جاری کرنے کا کوئی نہ کوئی نظام موجود ہے۔ لیکن ان میں سے صرف 28 فیصد نے گرمی سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیشتر شہروں میں وارننگ ملنے کے باوجود لوگوں کے پاس کوئی ٹھوس راستہ نہیں ہوتا کہ وہ خود کو کیسے محفوظ کریں۔


یہی وجہ ہے کہ ہر سال ہزاروں اموات ریکارڈ ہونے کے باوجود گرمی کے اثرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ مثال کے طور پر، کئی شہروں میں گرمی کے دنوں میں ہنگامی کولنگ سینٹرز قائم نہیں کیے جاتے، مزدوروں کو آرام کے لیے اضافی وقت نہیں دیا جاتا اور نہ ہی اسپتالوں میں اضافی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔




ورلڈ بینک کی تجویز کردہ حکمتِ عملی
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اگر فوری اور درست اقدامات کیے جائیں تو 80 فیصد تک متوقع اموات کو روکا جا سکتا ہے اور پیداواری صلاحیت میں کمی کو نصف تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے چار بڑے شعبوں پر توجہ دینا لازمی ہے

شہروں کو ٹھنڈا کس طرح رکھا جائے
شہری درجہ حرارت کم کرنے کے لیے سبز مقامات اور درخت سب سے بڑا ہتھیار ہیں۔ پارکوں میں اضافہ، سڑکوں کے کنارے درختوں کی قطاریں اور عمارتوں پر سبز چھتیں درجہ حرارت کو کئی ڈگری تک کم کر سکتی ہیں۔ تیرانا میں ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت شہر کے اردگرد “آربیٹل فاریسٹ” بنایا جا رہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ لاکھوں درخت لگا کر شہر کے درجہ حرارت کو کم کیا جائے۔ اگرچہ ابھی یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوا، لیکن اس سے یہ بات واضح ہے کہ درست سمت میں قدم بڑھایا جا رہا ہے۔


کمزور طبقات کا تحفظ
بزرگ، بچے، بیمار افراد اور مزدور گرمی کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ٹھنڈے مراکز (Cooling Centers)، سایہ دار گزرگاہیں اور پانی کی سہولتیں فراہم کرنا لازمی ہے۔ کئی ممالک میں اب SMS اور موبائل ایپس کے ذریعے لوگوں کو پہلے ہی اطلاع دی جاتی ہے تاکہ وہ حفاظتی اقدامات کر سکیں۔ لیکن یہ نظام سب جگہ موجود نہیں، اور جہاں ہے وہاں بھی اس کی رسائی محدود ہے۔


بنیادی ڈھانچھے کو ڈھالنا
موجودہ انفراسٹرکچر بڑھتی ہوئی گرمی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بجلی کے تار زیادہ درجہ حرارت پر ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، ریلوے ٹریک مڑ جاتے ہیں، اور سڑکیں پگھلنے لگتی ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ مستقبل کے منصوبے گرمی کو مدِنظر رکھ کر بنائے جائیں۔ مثال کے طور پر، نئی عمارتوں میں تھرمل انسولیشن کا استعمال کیا جائے، اسکولوں اور ہسپتالوں میں وینٹیلیشن سسٹم بہتر بنایا جائے، اور توانائی کے شعبے میں قابل تجدید ذرائع جیسے سولر اور ونڈ کو زیادہ فروغ دیا جائے تاکہ لوڈ برداشت ہو سکے۔


ادارہ  جاتی اصلاحات
سب سے اہم پہلو حکومتی سطح پر فیصلے اور ترجیحات ہیں۔ رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ ہر شہر اور ملک کی ترقیاتی پالیسی میں گرمی سے بچاؤ کے اقدامات کو شامل کیا جانا چاہیے۔ کچھ ممالک نے "چیف ہیٹ آفیسر" مقرر کیے ہیں جو صرف اس بات پر نظر رکھتے ہیں کہ گرمی سے نمٹنے کے لیے کون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی حکمت عملی خطے کے دیگر شہروں میں بھی اپنانی ہوگی۔




شہروں کی مثالیں اور تجربات
کچھ شہروں نے اس سمت میں عملی اقدامات شروع کیے ہیں۔


تیرانا        ( البانیہ ) یہاں درخت لگانے کا بڑا منصوبہ جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو شہر کا درجہ حرارت 2°C تک کم ہو سکتا ہے۔


اسکاپیہ  (شمالی مقدونیہ )اس شہر میں حالیہ برسوں میں ہیٹ ویوز کے اثرات بہت زیادہ دیکھے گئے۔ مقامی حکومت نے کچھ علاقوں میں چھوٹے پارک اور سایہ دار گزرگاہیں بنائی ہیں تاکہ لوگ گرم دنوں میں وہاں پناہ لے سکیں۔


استنبول   (ترکی )یہاں تحقیق سے معلوم ہوا کہ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ اموات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اب شہر میں "ہیٹ میپ" بنایا جا رہا ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کون سے علاقے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں اور وہاں سب سے پہلے اقدامات کیے جائیں۔

توانائی اور پانی کا بحران
گرمی کے بڑھتے ہوئے اثرات صرف انسانی صحت اور معیشت تک محدود نہیں۔ توانائی کے شعبے پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ 2024 کی گرمی کی لہر کے دوران ترکی اور مغربی بالکان کے کئی ممالک میں بجلی کا استعمال ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کئی شہروں میں بلیک آؤٹ ہو گئے کیونکہ نظام اتنے بڑے دباؤ کو برداشت نہیں کر سکا۔



پانی کے ذخائر بھی سکڑ رہے ہیں۔ استنبول کے ڈیمز 2024 میں صرف 33 فیصد تک بھرے، جو گزشتہ 9 برس کی سب سے کم سطح تھی۔ یہ خطرناک رجحان بتاتا ہے کہ مستقبل میں شہروں کو پانی کی قلت کا بھی سامنا ہوگا، جو پہلے ہی گرمی سے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔




مستقبل کی تصویر
اگر کچھ نہ کیا گیا تو 2100  تک یورپ اور وسطی ایشیا کے کئی شہر ایسے ہو جائیں گے جہاں گرمی ایک مسلسل عذاب بن جائے گی۔ ہر سال کئی مہینے شدید ہیٹ ویوز کے زیرِ اثر گزریں گے، اور درجہ حرارت موجودہ اوسط سے 4 ڈگری زیادہ ہو جائے گا۔ یہ صورتحال نہ صرف انسانی صحت بلکہ معیشت، معاشرت اور ماحولیات سب کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگی۔

لیکن اگر بروقت اقدامات کیے جائیں تو تصویر بدل سکتی ہے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ شہروں میں سبزہ بڑھانے، ٹھنڈک فراہم کرنے والے انفراسٹرکچر بنانے اور کمزور طبقات کو تحفظ دینے سے اس تباہی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پر خرچ کیا جانے والا سرمایہ ضائع نہیں ہوتا بلکہ کئی گنا فائدہ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی شہر میں گرمی سے بچاؤ کے لیے 1 یورو خرچ کیا جائے تو اس کے بدلے 2 سے 20 یورو تک کا فائدہ ہو سکتا ہے۔

نتیجہ . ایک انتخاب باقی ہے
یہ سب کچھ بتاتا ہے کہ ہمارے پاس اب بھی انتخاب موجود ہے۔ یا تو شہروں کو وقت پر تیار کر کے آنے والی نسلوں کو ایک بہتر اور محفوظ مستقبل دیا جائے، یا پھر لاپرواہی کے باعث وہ دن دیکھے جائیں جب یورپ اور وسطی ایشیا کے شہر ناقابلِ رہائش بن جائیں۔

گرمی کا بحران کوئی مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ آج کی حقیقت ہے۔ اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ، خشک ہوتے ڈیمز، بجلی کے بلیک آؤٹ اور مزدوروں کی تھمی ہوئی سانسیں اس حقیقت کی گواہی دے رہی ہیں۔


سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کے یہ شہر بروقت جاگ پائیں گے؟ یا آنے والے برسوں میں گرمی کی وہ شدت دیکھیں گے جس سے بچنا ناممکن ہو جائے گا؟