مختلف دریاؤں کا پانی ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے دریائے سندھ سے اپنی آخری منزل سمندر تک پہنچتا ہے۔ سندھ کی سینکڑوں میل کی کچے کے ایریا سے گذر رھاھے۔ سندھ ان پانچ دریاؤں کی تیز لہروں کا قدرتی اور آخری مسکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کو ہمیشہ چھوٹے بڑے سیلاب کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔
پنجاب میں "پنجند" کے مقام پر پانچ دریاؤں - ستلج، راوی، چناب، جہلم اور خود سندھ کا پانی جمع ہوتا ہے اور کوٹ مٹھن اور گڈو بیراج کے ذریعے سندھ میں داخل ہوتا ہے۔ جب تک وہ پانی سمندر میں نہیں جائے گا، سندھ کے لوگ خطرے کی کیفیت میں رہیں گے۔
پنجاب سے بہنے والے دریاؤں میں پانی میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے پنجاب مین ہیڈ ورکس اور بیراج شدید دباؤ میں ہیں اور ان کے ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔ پنجاب حکومت نے کئی بندون کو مصنوعی طور پر تباہ کر دیا، یعنی ان پر ’’بمباری‘‘ کر کے پانی کی سطح کو کم کر کے صوبے کے کچھ بیراجوں اور اہم شہروں کو ڈوبنے سے بچا لیا، لیکن اس کی وجہ سے کئی دیگر غیر اہم شہر اور علاقے زیر آب آ گئے۔ جہاں سے لاکھوں لوگوں کو عارضی طور پر نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ پانی کی سطح میں اس کمی کی وجہ سے پانی میں اضافے میں نمایاں کمی آئی ہے جس کا فائدہ سندھ کو ہو رہا ہے۔
دریائے سندھ، جو دنیا کے سب سے بڑے دریائی نظاموں میں سے ایک ہے، تقریباً 7,000 کلومیٹر سیلاب پر قابو پانے والے بندون اور تقریباً 1,400 اسپرس مین گھرا ہوا ہے۔ سندھ میں یہ دریا کشمور سے کیٹی بندر تک پورے سندھ کو سیراب کرتا ہے۔ جب انگریزوں نے 1842 میں سندھ کو فتح کیا تو انہوں نے سندھ کو زرخیز بنانے اور اناج پیدا کرنے کے لیے جنگلات اور آبپاشی کے محکمے قائم کیے۔ 1860 میں دریا کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے دریا کے دونوں کناروں پر حفاظتی بند بنائے گئے تاکہ دریائے سندھ کے بہنے والے پانی کو زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
بعد ازاں 1932 میں سکھر بیراج کی تعمیر مکمل ہوئی۔ اس سے سندھ میں دریا کا پانی زراعت کے لیے استعمال ہونے لگا۔ اس سے سندھ میں زرعی شعبے میں بڑے پیمانے پر ترقی ہوئی اور دریا کے درمیان کے علاقے کو "کچی" کا نام دیا گیا۔
ماہرین آبپاشی نے دریائے سندھ میں آنے والے سیلابی پانی کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے50 ھزار سے ایک لاکھ کیوسک کے بہاؤ کو عام سیلاب کہا جاتا ہے۔ اس سے کچے کا ایریا مکمل طور پر محفوظ رہتا ہے۔ اگر بہاؤ ایک لاکھ سے دو لاکھ کیوسک کے درمیان ہو تو صرف ایریا صرف 10 فیصد پانی مین ڈوب جائے گا، دو لاکھ سے تین لاکھ کیوسک کے بہاؤ سے 20 فیصد حصہ متاثر ہوگا اور اگر چار لاکھ کیوسک کا سیلاب آئے گا تو 35 سے 40 فیصد زیر آب، فصلوں اور مکانات کو نقصان پہنچے گا۔ پانج لاکھ کیوسک سے زائد پانی کے بہاؤ سے 60 سے 70 فیصد علاقہ زیر آب آ جائے گا۔ 7 لاکھ کیوسک اور اس سے زیادہ پانی کے بہاؤ کی صورت میں 90 فیصد کچے کے زمین زیرآب آجائے گی۔
سندھ کے کچے کا علاقے جو کشمور سے ڈیلٹا تک پھیلا ہوا ھے ، جس مین بیس لاکھ 11 ھزار دو سو ایکڑ رقبے پر محیط ھے، اس میں سے دس لاکھ ایکڑ زرعی استعمال کے تحت ہےچھ لاکھ ایکڑ دریا کے درمیانی حصے میں ہے, چار لاکھ پچاس ھزار ایکڑ رقبہ محکمہ جنگلات کے زیر استعمال ہے۔ باقی پچاس ھزار ایکڑ پر جھیلیں، گاؤں وغیرہ ہیں، جہاں فصلیں نہیں اگائی جاتیں۔
پچاس سال پہلے کچی کے ایریا میں سات لاکھ پچاس ھزار لوگ رہتے تھے جب کہ اب کچی آبادیوں میں رہنے والوں کی تعداد 35 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ تعداد دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہے، جن میں کویت، قطر، بحرین، بوسنیا اور ہرزیگوینا، جمیکا، آرمینیا، لتھوانیا، موریطانیہ، موناکو، جبرالٹر، البانیہ، لکسمبرگ، مالدیپ، برونائی، بھوٹان، گریناڈا، بارباڈوس،سمیت، تقریباً 70 دیگر ممالک شامل ہیں۔جن کی آبادی سندھ کے کچی والی آبادی سے کم ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کچی کے علاقے کا 1.78 ملین ایکڑ سے زائد رقبہ بااثر زمینداروں کے قبضے میں ہے۔ جہاں جھیلین ، پرائیویٹ گھروں، ٹیوب ویلوں، حتیٰ کہ غیر قانونی خانگی بندون کی صورت میں ان کی ’’کیٹیان ‘‘ مین کاشت کی جارہی ہے۔ 45 سال قبل کچی کا 42 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل تھا، اب زرعی اراضی پر کاشت ہونے کی وجہ سے جنگلات کی تعداد صرف 5 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے دریا کا قدرتی نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔اور
سندھ کے محکمہ جنگلات نے 2004 میں "ایگرو فارسٹ لیز پالیسی" متعارف کرائی تاکہ "دریاؤں کے جنگلات" کو بڑھایا جا سکے۔ جس کے تحت ہزاروں ایکڑ بنجر زمین لیز پر دی گئی جس سے ہزاروں لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور بڑی مقدار میں زمین لیز پر حاصل کی۔ زرعی زمینوں کی ترقی، جنگلات کی کٹائی، اور زمینداری بندون کی غیر قانونی تعمیر کی وجہ سے دریائے سندھ سے پانی کا ہموار گزرنے میں رکاوٹ پیدا ہونے لگی۔
اس کے علاوہ دریائے سندھ پر بنائے گئے نئے پل، خاص طور پر لاڑکانہ اور خیرپور کو ملانے والا پل، جس کی لمبائی 1.22 کلومیٹر ہے، جب کہ دریا کے کنارے، دونوں پشتون کے درمیان چوڑائی 13 کلومیٹر ہے۔ اسی طرح قاضی احمد اور آمری پل 1.32 کلومیٹر پر بنائے گئے ہیں جہاں دریا کے کنارے کی چوڑائی 9 کلومیٹر ہے۔ ان پلوں کے ستونوں اور ندی کے کنارے سکڑنے کی وجہ سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ 2010 کی طرح سکھر سے کوٹری بیراج تک پانی پہنچنے میں 400 گھنٹے لگے۔ پلوں کی تعمیر سے قبل رکاوٹیں نہ ہونے کی وجہ سے معمول کا بہاؤ سکھر سے کوٹری بیراج تک 72 گھنٹے میں پہنچ جاتا تھا۔
فطرت سے محبت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سیلاب ہمارا دشمن نہیں بلکہ انسانوں کی غیر فطری مداخلت ہے جس نے اس خوش نصیبی کو برائی میں بدل دیا ہے۔ کیونکہ ہزاروں سال تک انسان اور دریاؤں سے بہنے والا پانی ایک ساتھ رہتے تھے لیکن جب انہوں نے فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو اب اس کی وجہ سے نقصان اٹھا رہے ہیں۔ سیلاب کا آنا کوئی گناہ نہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنے والے منتظمین اس کے ذمہ دار ہیں۔ پاکستان میں سیلاب کے انتظام کو بہتر کرنا ہو گا۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر سندھ حکومت پشتون کی حفاظت کو یقینی بنائے اور عظیم دریائے سندھ کا میٹھا پانی سمندر تک پہنچا دے تو کوئی بڑا مالی اور انسانی نقصان نہیں ہوگا۔