سندھ ہائی کورٹ نے جامعہ کراچی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کا فیصلہ معطل کردیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جامعہ کراچی کی جانب سے ڈگری منسوخی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ رجسٹرار جامعہ کراچی نے کہا ہمیں بدھ کو نوٹس ملا ہے، جواب کے لئے مہلت دی جائے۔جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا جواب کے لئے آپ کو کتنا وقت چاہیے۔ درخواست گزار کےوکیل بولے فریقین کو جواب کی مہلت دے دیں لیکن تب تک آرڈر معطل کردیں۔عدالت نے رجسٹرار جامعہ کراچی سے کہا آپ کو مہلت دیتے ہیں لیکن اگر اس دوران درخواست گزار کے خلاف کوئی کارروائی ہو گئی تو کیا ہوگا۔اگر بعد ازاں آرڈر واپس ہوگیا تو درخواست گزار کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیسے ہوگا۔عدالت نے دریافت کیا ڈگری کے معاملے پر کیا متاثرہ فریق کو نوٹس دیا گیا تھا۔ رجسٹرار جامعہ کراچی نے کہا میری پوسٹنگ نئی ہے، مجھے اسکا علم نہیں۔عدالت نے ریمارکس دیئے آپ اگر عدالت آئے ہیں ،،تو جواب تو دینا پڑے گا۔ہوسکتا ہے ذاتی مفاد کی وجہ سے درخواست گزار کے خلاف کارروائی کی گئی ہو۔تیس پینتیس سال بعد اگر کوئی درخواست دیتا ہے تو متاثرہ فرد کو بلانا چاہیئے۔فریقین کو سنے بغیر کئے گئے عدالتی فیصلے کی بھی اہمیت نہیں ہوتی۔ایکس پارٹی ججمنٹ کو اچھا ججمنٹ نہیں سمجھا جاتا۔