سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت

سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت، آئینی بینچ اور اختیارات پر طویل بحث



اسلام آباد  سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت آئینی نکات اور بینچ کے اختیارات پر طویل بحث کے بعد کل تک ملتوی کر دی گئی۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔


درخواست گزار کے وکیل شبر رضا رضوی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر سپریم کورٹ اور آئینی بینچ کو الگ تصور کیا جائے تو قانون میں بینچ کے اختیارات واضح نہیں کیے گئے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ "آپ نے بینچ کے اختیارات میں اضافہ کروا دیا، یہ تو اچھی بات ہے۔"


وکیل نے مؤقف اپنایا کہ نئے بینچ کو کچھ اختیارات دیے گئے ہیں، لیکن سپریم کورٹ سے وہ اختیارات نہیں چھینے گئے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آئین میں ترمیم ہوچکی ہے اور اس کے مطابق آئینی بینچ تشکیل پا چکا ہے۔


سماعت کے دوران آرٹیکل 191 اے، 184/3، 176 اور 187 پر تفصیلی بحث ہوئی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آئینی بینچ کو آرٹیکل 184/3 کے اختیارات منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ وکیل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 191 اے کو دیگر آئینی شقوں کے ساتھ ملا کر پڑھنا ضروری ہے۔


وکیل نے مثال دی کہ وفاقی شرعی عدالت بھی سپریم کورٹ کا حصہ ہے اور آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کے لیے اختیارات استعمال کرتی ہے۔ جسٹس امین الدین نے سوال اٹھایا کہ غیر آئینی بینچ کے ججز کو آئینی بینچ کا حصہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔


بیرسٹر عدنان نے فل کورٹ کی تشکیل کی استدعا کی اور کہا کہ تمام ججز کو کیس سننے کا اختیار ہونا چاہیے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا وہ ججز بھی فل کورٹ کا حصہ ہوں گے جو 26ویں ترمیم کے بعد آئے؟


عدالت نے وکیل سے پوچھا کہ آئینی ترمیم کو غیر قانونی قرار دیے بغیر کیسے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ جسٹس امین الدین نے کہا کہ قوم کے سامنے یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن میں کیا ہو رہا ہے۔


سماعت کے اختتام پر بیرسٹر ڈاکٹر عدنان نے اپنے دلائل مکمل کیے، جبکہ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد احسن کل اپنے دلائل کا آغاز کریں گے۔