نئی دہلی دھماکے کے عینی شاہد کا بیان سامنے آ گیا، بھارتی مؤقف پر سوالات اٹھنے لگے
نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت میں حالیہ دھماکے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جب عینی شاہد دھرمندر نے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔ ان کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب وہ مخالف سمت سے گزر رہے تھے۔ دھماکے کے بعد گاڑی کے اندر چار جلی ہوئی لاشیں جبکہ باہر دو افراد ہلاک اور ایک زخمی دیکھا گیا۔
عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکہ سفید رنگ کی سوزوکی ماروتی گاڑی میں ہوا، جس کی نمبر پلیٹ ندیم، ہریانہ کی تھی۔ تاہم بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ اور میڈیا نے گاڑی کو ہنڈائی قرار دیا، جب کہ مختلف ذرائع گاڑی کے مالک کا نام سلمان یا طارق بتا رہے ہیں۔ گواہ کے مطابق گاڑی میں چار سے پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہوئے۔
تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ یہ کس قسم کا دہشتگرد حملہ ہے جہاں آدھی ہلاکتیں خود مبینہ حملہ آوروں کی ہوں؟ بھارتی میڈیا اور حکام پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ حقیقت کو نظرانداز کر کے اپنی بنائی ہوئی کہانی دہرا رہے ہیں، جیسا کہ ماضی میں فالس فلیگ آپریشنز کے دوران دیکھا گیا۔
واقعے کے بعد بھارتی میڈیا کی متضاد رپورٹس اور حکومتی بیانات نے اس دھماکے کی نوعیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ عوامی سطح پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔