پشاور کے لوگوں کا شکرگزار ہوں، پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم سب سے پہلے شروع ہوئی، الیکشن قریب آتے جا رہے ہیں ، موسم بھی بہت اچھا ہے ، پتہ نہیں ان کا کیا ہو گا جو سردی کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑنا چاہتے تھے ، ان کا کیا ہو گا جو بائی الیکشن سے بھاگتے تھے ، کہتے ہیں ان کو دہشتگردی کی دھمکیاں اور سیکیورٹی تھریٹس ہیں ، پیپلز پارٹی کونے کونے میں جا رہی ہے کیا ہمیں سیکیورٹی تھریٹس نہیں ؟ ہم ڈرنے، گھبرانے اوربھاگنے والے نہیں ، ہم ذوالفقار علی بھٹو کے سپاہی اور بینظیربھٹو کے جیالے ہیں یہ سر کٹ تو سکتا ہے مگر جھک نہیں سکتا ، ملک کو مشکل سے نکالنے کیلئے الیکشن لڑ رہے ہیں ، نفرت اور تقسیم کی سیاست کی وجہ سے معاشرہ تقسیم ہو چکا ہے ، نفرت کی سیاست کی وجہ سے خاندان اور بھائی بھائی سے لڑ رہا ہے، نفرت اور تقسیم کی سیاست سے پاکستان کو نقصان پہنچا ہے ، پرانے سیاستدان ہمیں 90کی دہائی میں واپس دھکیلنا چاہتے ہیں ، میں پاکستان کو طاقتور اور جدید ریاست بنانا چاہتا ہوں ، پاکستان کے شہریوں کو حقوق ملنے چاہئیں، ہم الیکشن اپنے منشور پر لڑ رہے ہیں ، ہم نے اپنا منشور کاپی پیسٹ نہیں کیا اپنے ہاتھوں سے لکھا ہے ، مہنگائی ، بیروزگاری اور غربت کو دیکھتے ہوئے 10نکاتی ایجنڈا تیار کیا ، پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو آمدنی کو دوگنا کر دیں گے ، ایسا معاشی انقلاب لے کر آئیں گے جس کا سہرا ہر پاکستانی کے سر پر ہو گا ، ہم سولر کے ذریعے غریب عوام کو 300یونٹ مفت بجلی فراہم کریں گے ، قائد عوام نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرا اٹھایا تھا ، ہم نے پاکستان بھر میں 30لاکھ گھر بنانے ہیں ، ہم گھر کی خواتین کو مالکانہ حقوق دیں گے ، حکومت بنی تو کچی آبادی کو ریگولرائز کریں گے ، آپ کی کچی آبادی کو سب سے پہلے پکا کروں گا ، بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام میں اضافہ کروں گا ،