"جی سیون اجلاس، عالمی سلامتی و تعاون پر اعلامیہ"
کینیڈا میں جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں یورپی یونین کے نمائندے اور دیگر کئی ممالک کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہوئے۔
اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں سمندری سلامتی، اقتصادی استحکام، اہم معدنیات اور توانائی تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جی سیون ممالک نے یوکرین کی خودمختاری اور آزادی کے دفاع میں اپنی حمایت کی توثیق کی اور روس پر معاشی دباؤ بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔
اجلاس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے کی پرزور حمایت کا اعادہ کیا گیا، جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا خیرمقدم کیا گیا جبکہ ہلاک یرغمالیوں کی باقیات کی واپسی پر زور دیا گیا۔
ایران کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جوہری عدم پھیلاؤ کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی تلقین کی گئی اور براہِ راست امریکا سے مذاکرات کی اپیل کی گئی۔
جی سیون ممالک نے مشرقی و جنوبی بحیرہ چین میں طاقت کے ذریعے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ تائیوان کے مسائل کا پُرامن حل تعمیری مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
اعلامیہ میں چین کے تیزی سے بڑھتے فوجی و جوہری ذخائر پر تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ شمالی کوریا کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کی شدید مذمت کی گئی۔