سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ترلائی کلاں خودکش حملے کے بعد پشاور اور نوشہرہ میں خفیہ اطلاعات پر کارروائیاں کی گئیں، جن میں 4 سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ چھاپوں کے دوران داعش افغانستان کا ماسٹر مائنڈ بھی گرفتار ہوا، جو حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کی تیاری افغانستان میں داعش نے کی، جبکہ افغان طالبان کی سرپرستی میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں خطے کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ کارروائیوں کے دوران وطن کا ایک بیٹا شہید اور 3 افراد زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف خفیہ اطلاعات پر مزید آپریشنز جاری رہیں گے تاکہ خطے کو دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔